آئوٹ آف ٹرن ترقی نہیں مل سکتی : جسٹس گلزار

نوائے وقت  |  Jul 01, 2020

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ نے پولیس ملازمین کی ترقیاں کالعدم قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پنجاب پولیس افسران کی ترقیوں سے متعلق درخواستیں مستردکردی ہیں۔ چیف جسٹس گلزاراحمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس ملازمین نے ترقی کے لیے کونسا امتحان پاس کیا؟ ایسا کونسا امتحان ہے جسکا ریکارڈ نہیں ہے؟ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کسی سرکاری ملازم کو قانون سے ہٹ کر ترقی نہیں دی جا سکتی، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھاکہ جس قانون کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ختم ہوچکا ہے۔ جو قانون موجود نہیں اس پر انحصار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عدالت کو وہ قانون بتائیں جس کے تحت ترقی پانے والے ملازمین نے ایک سال میں دو کورس پاس کیے، درخواست گزاروں کے وکلا عدالتی سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور نہ ہی کوئی دستاویز پیش کر سکے۔ عدالت نے پولیس ملازمین کی اپیلیں مسترد کر کے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا، یاد رہے کہ حکومت نے پولیس ملازمین کی ترقی کے فیصلے واپس لے لیے تھے اور ملازمین محکمانہ فیصلہ کیخلاف سروس ٹریبونل میں چلے گئے تھے۔ پرسوںسے :یورپ کے لئے پی آئی اے پروازوںپر 6ماہ تک پابندی

پرسوںسے :یورپ کے لئے پی آئی اے پروازوںپر 6ماہ تک پابندی

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More