مانچسٹر ٹیسٹ: انگلینڈ نے پاکستان کو ہرا دیا

اردو نیوز  |  Aug 09, 2020

مانچسٹر میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو تین وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔ انگلش ٹیم نے 277 رنز کا ہدف سات وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ کرس ووکس 80 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

دوسری اننگز کی ابتدا میں مشکلات کا شکار دکھائی دینے والی انگینڈ کی ٹیم کو جو بٹلر اور کرس ووکس نے اپنی نصف سنچریوں کی اننگز کے ذریعے جیت کے راستے پر ڈالا۔

ایک موقع پر 277 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والی آدھی انگلش ٹیم کو پاکستانی بولرز نے 117 کے سکور پر پویلین واپس بھیج دیا تھا۔

انگلینڈ کے اوپنرز نے دوسری اننگز کا پراعتماد آغاز کیا تاہم 22 کے مجموعی سکور پر رورے برنس 10 رنز بنانے کے بعد عباس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیے گئے۔

 

روٹ کے ساتھ اچھی پارٹنر شپ کرنے والے ڈوم سبلے یاسر شاہ کی گیند پر 36 رنز بنانے کے بعد سلپ میں اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد جوئے روٹ بھی سلپ میں کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 42 رنز سکور کیے۔ وہ نسیم شاہ کا شکار بنے۔

روٹ کے بعد یاسر شاہ کے اگلے اوور میں بین سٹوکس بھی وکٹ کیپر محمد رضوان کو کیچ دے بیٹھے۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی اولی پوپ تھے جن کو شاہین آفریدی نے آؤٹ کیا۔

انگلینڈ کے چھٹے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بٹلر تھے جو ٹیم کو جیت کے قریب لے گئے۔ جیت سے چار رنز کے فاصلے پر انگلینڈ کی ساتویں وکٹ سٹورٹ براڈ کی گری۔

پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل میچ کے چوتھے روز پاکستان کی ٹیم دوسری اننگز میں 169 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں سب سے زیادہ رنز 33 یاسر شاہ نے سکور کیے۔

پاکستانی بلے باز دوسری اننگز میں بری طرح ناکام رہے۔ پہلی اننگز میں سینچری سکور کرنے والے شان مسعود بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔

انگلینڈ کے بولر سٹورٹ براڈ نے تین، بین سٹوکس اور ووکس نے دو دو پاکستانی بیٹسمینوں کو پویلین بھیجا۔

پاکستان نے پہلی اننگز میں 326 رنز سکور کیے تھے جبکہ انگلش ٹیم کو پاکستانی بولرز نے پہلی اننگز میں 217 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا۔

107 رنز کی برتری حاصل کرنے کے باجود پاکستان کی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں لڑکھڑا گئی۔

پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں انگلینڈ کے چار بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاداب خان اور شاہین آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More