پی ڈی ایم کے جلسے کو بھرپور سیکورٹی فراہم کریں گے، ضیاء لانگو

بول نیوز  |  Oct 24, 2020

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو حکومت کی جانب سے بھرپور سیکورٹی فراہم کی جائیگی۔

تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی کی کارروائی سے متعلق وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزارش کی ہے کہ پی ڈی ایم قائدین موجودہ صورتحال کے پیش نظر جلسہ منسوخ کردیں۔

ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ آج مستونگ میں 6 دہشت گرد موجود تھے 4 مارے گئے 2 کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

متعلقہ خبربلوچستان حکومت نے پی ڈی ایم جلسہ ملتوی کرنے کی اپیل کردی

بلوچستان حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے پی ڈی ایم جلسہ ملتوی...

انہوں نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے فورسز کوشاں ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی الرٹ سنجیدگی سےدیکھ رہے ہیں، ماضی میں بلوچستان میں سیکڑوں واقعات ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پر بھی  حملے ہوئے ہیں ایسے میں پی ڈی ایم قیادت کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے جبکہ پی ڈی ایم قیادت جلسے کے حوالے سے ہمارے اٹھائیس نکات ہیں جس کے مطابق ہم رہنماؤں کوبلٹ پروف گاڑیاں فراہم کریں گے۔

قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ نیکٹا کی جانب سے آئندہ دنوں میں بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ اور پشاور کے لیے تھریٹ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

Early threats are shared by NACTA on upcoming days in Balochistanz specially Quetta and Peshawar

Last few incidences in Ormara and Makran are clear signs where enemies shall not leave any opportunity unturned.

However, its sad to see how non serious opposition takes it.

— Jam Kamal Khan (@jam_kamal) October 22, 2020

جام کمال خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اورماڑہ اور مکران میں گزشتہ چند واقعات واضح علامات ہیں کہ دشمن کچھ بھی کر سکتا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے پی ڈی ایم جلسے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تاہم اب یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر سنجیدہ اپوزیشن اس عمل کو کس طرح لیتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More