ن لیگ والےسارےکام رات کی تاریکی میں کرتےہیں،شہبازگل

سماء نیوز  |  Oct 30, 2020

معاون خصوصی برائے وزیراعظم شہباز گل کا کہنا ہے کہ ایاز صادق کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے کہ ابھی نندن جائے گا یا نہیں۔ اگر ٹانگیں کانپ رہی ہوتیں تو کیا ہم انڈیا کو بتاتے کہ آپ 2 فائر کریں گے تو ہم 3 کریں گے۔ ایاز صادق آپ کیا پاؤں پکڑ کر بیٹھے تھے جو آپ کو ٹانگیں کانپنے کا پتہ چل گیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولﷺ ہیں۔ وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے اصول پر چلتے ہوئے پناہ گاہیں قائم کیں۔ آج بڑی پناہ گاہوں پر میلادالنبیﷺ کاانعقاد کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے بڑی مسلم ریاست کے سربراہ ہونے کا فرض ہمیشہ ادا کیا۔ شان رسالتﷺ میں گستاخی پر وزیراعظم نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ آج مسلمانوں کیلئے بہت بابرکت دن ہے۔

ابھی نندن سے متعلق ہونے والی بیان بازی پر ردعمل دیتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ حکومتی نمائندوں کا فرض ہوتا ہے نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا۔ جغرافیائی سرحدوں پر ہمارے نوجوان 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے کا پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ ایاز صادق کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے کہ ابھی نندن جائے گا یا نہیں۔ فیصلہ سازی کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ریاست مدینہ کو مانتے ہیں جس میں واضح ہے کہ جنگی قیدی کیساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ اگر ٹانگیں کانپ رہی ہوتیں تو کیا ہم انڈیا کو بتاتے کہ آپ 2 فائر کریں گے تو ہم 3 کریں گے۔ ایاز صادق آپ کیا پاؤں پکڑ کر بیٹھے تھے جو آپ کو ٹانگیں کانپنے کا پتا چل گیا۔ آپ کیا رومال پکڑ کر کھڑے تھے جو آپ کو عمران خان کو پسینہ آنے کا پتا چل گیا۔ میں وہ الفاظ یہاں نہیں بول سکتا جن الفاظ میں انڈین میڈیا ان کا بیان دکھا رہا ہے۔ پاکستان مخالف بیانیے کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر بہادری سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ درست بیان ہوتا تو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی جاتے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کل بدقسمتی سے رانا ثناء اللہ نے ایازصادق کے بیان کو ری انڈورس کیا۔ ن لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سارے کام رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ عمران خان 5 نشستوں سے جیت کر وزیراعظم بنے ہیں۔ یہ بغض عمران خان میں دوستی ہندوستان تک پہنچ گئے ہیں۔ پہلی بار پاکستان میں نورا کشتی نہیں ہو رہی۔ عمران خان نے پہلی بار ان لوگوں کی باریاں توڑی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More