سرما میں کے ٹو کو سر کرنے کا ریکارڈ نیپالی کوہ پیماؤں کے نام

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jan 16, 2021

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو

نیپالی کوہ پیماؤں کی دس رکنی ٹیم نے سولہ جنوری 2021ء کو پاک چین سرحد کے قریب ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ کوہ پیمائی سے متعلق ملکی تنظیم الپائن کلب آف پاکستان کے ترجمان کرار حیدری کے مطابق 'شیرپا‘ کہلانے والے دس نیپالی کوہ پیماؤں کی یہ ٹیم مقامی وقت کے مطابق آج ہفتہ سولہ جنوری کی شام پانچ بجے اس پہاڑی چوٹی پر پہنچ گئی۔

کرار حیدری کے مطابق اس سے قبل موسم سرما میں کے ٹو کو کسی نے بھی کبھی سر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ پہلے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ٹیم سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کے لیے پہنچی تھی۔ حیدری کے بقول، ''درجنوں کوہ پیماؤں میں سے صرف دس نیپالی کوہ پیماؤں کا گروپ کامیاب ہوا ہے۔‘‘

کے ٹو سر کرنے کی کوششیں

دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد کے ٹو 8611 میٹر کی بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ موسم سرما کے دوران کے ٹو کی چوٹی پر ہوا کا دباؤ بہت تیز ہوتا ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کے ٹو کو سن 1954 میں پہلی مرتبہ سر کیا گیا تھا۔ تاہم موسم سرما میں اس چوٹی کو اب پہلی بار سر کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:19 موسم سرما میں کے۔ ٹو سر کرنے کی کوشش

بھیجیے Facebook Twitter Whatsapp Web EMail Facebook Messenger Web reddit

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3mznV

موسم سرما میں کے۔ ٹو سر کرنے کی کوشش

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس سال چار ٹیموں پر مشتمل کل 48 کوہ پیما کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تھے۔ ماضی میں موسم سرما کے دوران کوہ پیمائی کے تمام پروگراموں کے مقابلے میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حیدری کے مطابق دس نیپالی کوہ پیما پہلے مختلف گروپوں کا حصہ تھے تاہم موسم سرما میں کے ٹو کو سر کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے وطن نیپال کے نام کرنے کے لیے وہ سب اکٹھے ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق کے ٹو کو سر کرنے کے بعد نیپالی کوہ پیماؤں نے وہاں اپنا قومی ترانہ بھی گایا۔

ماضی میں اس بہت خطرناک پہاڑ کو زیر کرنے کی کوشش میں درجنوں کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ توقع ہے کہ موسم سرما میں اسے کرنے کی موجودہ مہم اگلے ماہ فروری کے اواخر تک مکمل ہو جائے گی۔

ع آ / م م (اے پی، اے ایف پی)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More