حکمران الٹے بھی لٹک جائیں مجھ کرپشن ثابت نہیں کرسکتے،شہبازشریف

روزنامہ اوصاف  |  Jan 20, 2021

لاہور(روزنامہ اوصاف)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز نیب عدالت لاہور میں پیش ہو گئے ،پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس پر شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف سماعت ہوئی۔ شہباز شریف ایک بار پھر روسٹرم پر آگے۔ فاضل جج نے شہباز شریف سے سوال کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جس پر لیگی رہنما نے کہا میڈیکل بورڈ نے میڈیکل رپورٹس نہیں دی، جیل والوں نے بتایا وہ عدالت میں پیش کر دی ہیں۔مانیٹری پالیسی کا اعلان 22جنوری کو ہوگااس پر فاضل نے جواب دیا کہ اس درخواست پر آج فیصلہ کر دوں گا۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر لاہور میں ویسٹ منیجمنٹ کمپنی پر کسی ادارے نے میری باتوں کی تردید نہیں کی، میرے خلاف لندن سے خبر چھپائی گئی، جس نے خبر چھپوائی اس کا نام نہیں لوں گا، پنجاب میں برطانیہ کی حکومت کے ساتھ ملکر 5 ارب روپے کے مختلف پروگرام شروع کیے۔شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ڈیلی میل نے جب خبر شائع کی تو برطانیہ کی حکومت نے اتوار کے روز آفس کھول کر تحقیقات کیں، برطانیہ میں اتوار کی چھٹی بہت اہم ہوتی ہے مگر اس دن افسز کھولے اور تحقیقات کی گئیں مگر میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ڈیلی میل میں خبر شائع کر کے پاکستان کو بدنام کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ یہ لوگ الٹے بھی لٹک جائیں پھر بھی مجھ پر کرپشن ثابت نہیں کرسکتے یہ جو بھی منصوبے کھولیں گے ان میں بچت ہی بچت نظر آئے گی ۔قبل ازیں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہاکہ حکومت گرچکی، قومی خزانے سے کمیشن مانگتے ہوئے پکڑے گئے، چینی، آٹا سب چوری کرا دیا، نااہل ٹولہ ملک پر مسلط ہے جنہوں نے عوام کا جینا حرام کردیاہے۔ملکی تاریخ میں ایسا ٹولہ پہلے کبھی مسلط نہیں ہوا، آئے روز کے سکینڈل بتا رہے ہیں، ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں، آٹا بجلی گیس سب کچھ چوری ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملکی تاریخ کی یہ سب سے نااہل ترین حکومت ہے جس نے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے بھاری بوجھ تلے دبا دیا ہے ۔عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپنے بڑوں کو نوازا جارہا ہے ،عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، غریب دو وقت کی روٹی کیلئے ترس گیا ہے ۔اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قیمتیں آسمانوں پر پہنچ چکی ہیں ۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More