صرف بابر اعظم پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، یونس خان

بول نیوز  |  Jan 20, 2021

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے کہا ہے کہ ہمیں صرف بابراعظم پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بہتر متبادل تیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران سابق کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

یونس خان نے کہا کہ  بابراعظم بڑے کھلاڑی ہیں، وہ ان فٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم ناکام ہوئی، اگر بابر اعظم ٹیم میں نہ ہو تو یہ مطلب نہیں کہ ہار جائیں، بہتر متبادل تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، نئے کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ ہمیشہ سپورٹنگ رہی ہے۔کراچی کی پچ بلے بازوں اور بالرز کو یکساں مدد کرے گی،  وکٹ پر تھوڑا بریک بھی ہوتا ہے جبکہ شام کو گیند سوئنگ بھی ہوتی ہے۔

بیٹنگ کوچ نے کہا کہ   پاکستان کو پہلی اننگ میں جم کر زیادہ اسکور کرنا ہوگا، بہتر اسکور سے ہمارے بالرز کو مدد ملے گی۔کامیابی  کے لیے میچ میں 6 سے 7 سیشن جیتنا ضروری ہوتے ہیں۔

یونس خان نے مزید کہا کہ  نئے کھلاڑیوں  پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو موقع اور وقت دینا ہوگا۔عدم کارکردگی پر کھلاڑیوں کو ٹیم سے الگ نہ کیا جائے۔ نئے کھلاڑیوں پر  ہی بھروسا کرنا ہوگا، اگر کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ان کو ضائع نہ کریں، موقع دیا جائے،ان کی پرفارمنس کو نہ دیکھیں۔

بیٹنگ کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ضروریات کے دائرے میں رہ کر بھرپور محنت کرنی ہوگی، کارکردگی کا انحصار خود کھلاڑی پر ہوتا ہے، کوچ صرف رہنمائی کرتا ہے، زیادہ تجربات بیان کرنے سے کھلاڑی ڈبل مائنڈڈ ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوچز کی بھی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے، نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد خاص طور پر بالنگ کوچ وقار یونس پر سخت تنقید ہوئی، بطور بیٹنگ کوچ مجھ پر بھی تنقید کی جائے، میری خامیاں سامنے لائیں، ذاتی بنیاد پر تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔اچھی کارکردگی پرکھلاڑیوں اور کوچز کو بھی پزیرائی ملنی چاہیے۔

یونس خان نے کہا کہ آج  کے دور میں کھلاڑی پر دباؤ زیادہ ہے، کھلاڑی زیادہ ورک لوڈ کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔کھلاڑیوں کو آزادی ضرور ملنی چاہیے، اونرشپ ملنے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی بڑھے گی۔

بیٹنگ کوچ نے کہا کہ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کو تین سے چار سیریز میں مواقع ملنے چاہئیں، کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے کہ وہ طویل مدت تک ٹیم کا حصہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خوش نصیبی  ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ رہی ہے۔دنیا کی ٹاپ کرکٹ ٹیموں کا پاکستان آنا نیک شگون ہے۔یہ وقت ڈومیسٹک نظام پر باتیں کرنے کا نہیں، فتح اور اچھے نتائج کے لیے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More