ضمنی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا گیا

روزنامہ اوصاف  |  Feb 23, 2021

لاہور (ویب ڈیسک) 2018ء کے انتخابات کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے لگی تو عام خیال یہی تھا کہ میاں شہباز شریف کی مستعدی‘ فعالیت اور بیورو کریسی پر مضبوط گرفت کا مقابلہ کرنے کے لئے عمران خان اپنے کسی ایسے دیرینہ‘ وفادار‘تنظیمی صلاحیت سے مال اور متحرک کارکن و عہدیدار کو وزارت اعلیٰ کا منصب سونپیں گے جو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر صوبے کی پولیس و بیورو کریسی میں شریف خاندان کے اثرورسوخ کو ختم کرے گا اور عوام کے علاوہاپنے نظریاتی کارکنوں کو تبدیلی کا احساس دلائے گامگر ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ حلقہ این اے 75کے انتخابی نتائج حکمران جماعت کے لیڈروں کی طرف سے دھونس دھاندلی کی شکایت اور پولنگ کے روز بدامنی نے یہ ثابت کیا کہ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی سول انتظامیہ پر کوئی گرفت ہے نہ اپنے کارکنوں حتیٰ کہ پولنگ ایجنٹس کو تحفظ فراہم کرنے کی اہلیت اور نہ فریق مخالف سے قانون کی پابندی کرانے کی صلاحیت۔ مسلم لیگ ن تو روز اوّل سے اس الزام کا سامنا کر رہی ہے کہ وہ عام انتخابات دھاندلی سے جیتتی ہے اور بیورو کریسی میں اس کے وفادار افسران و اہلکار بھر پور تعاون کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے توڑ کیوں نہیں کیا اور الیکشن کمشن کو ایسا عملہ فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہی جو مسلم لیگ (ن) کے بجائے ریاست کا وفادار اور شفاف انتخاب کرانے کا اہل ہو‘کمال کی بات یہ ہے کہ مریم نواز شریف‘ احسن اقبال‘ رانا ثناء اللہ اور دیگر مسلم لیگی لیڈر گزشتہ چوبیس گھنٹے سے پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے حکمران جماعت اور عمران خان کی بھد اڑا رہے ہیں مگر فردوس عاشق اعوان اور شہباز گل کے علاوہ کوئی مرکزی و صوبائی لیڈرالزامات کا جواب دینے اور اصل حقائق بتانے کو تیار نہیں۔ ‘ این اے 75کے ضمنی انتخاب کے موقع پر ہونے والی گڑ بڑ نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا ہے کہ امن و امان کا قیام ہی نہیں‘عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے۔ معاملہ صرف پنجاب کے ایک حلقے تک محدود رہتا تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا مگر تحریک انصاف وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے حلقے میں بھی ضمنی انتخاب ہار گئی جس کا ذمہ دار پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کو قرار دے کر صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا ہے ۔یہ تحریک انصاف کی اندرونی دھڑے بندی اور مرکزی و صوبائی قیادت کی پارٹی کے معاملات سے لاتعلقی کا نتیجہ ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ہی لیاقت خٹک اور ان کے صاحبزادے کی مخالفانہ بلکہ باغیانہ روش کا قیادت کو ادراک کیوں نہ ہوا‘ انہیں راضی کرنے کی سنجیدہ کوشش ہوئی نہ مخالفت سے باز رکھنے کی تدبیر‘ انضباطی کارروائی بھی ایک نشست کی قربانی دینے کے بعد کی گئی ‘ اب پچھتائے کیاہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔2013ء کے انتخابات بھی اسی انداز میں ہارے گئے تھے اور اندیشہ یہی ہے کہ اگلے سینٹ وبلدیاتی انتخابات میں بھی کپتان کے اہم کھلاڑی یہی گل کھلائیں گے۔تبھی سینٹ کے انتخابات میں پنجاب سے ارکان اسمبلی کی وفاداریاں برقرار رکھنے اور حفیظ شیخ جیسے امیدواروں کی کامیابی کے لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو باردگر جہانگیر ترین کی خدمات یاد آئی ہیں جبکہ چودھری برادران سے بہتر رابطوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی‘ کاش پنجاب اور خیبر پختون خواکے کارکنوں اور حکومت کے خیر خواہوں کی بات پہلے سن لی جاتی تو ڈسکہ ‘ وزیر آباد اور نوشہرہ میں جگ ہنسائی ہوتی نہ سینٹ کے انتخابات جیتنے کے لئے جہانگیر ترین اور عاطف خان کی ناز برداری کرنی پڑتی۔ کیا یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وسیم اکرم پلس کے ’’حسن کارکردگی‘‘ کا نتیجہ نہیں؟ عمران خان کو کب احساس ہو گا؟ چراکارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی۔ صورت حال جوں کی توں رہی تو بلدیاتی اور پھر 2023ء کے عام انتخابات حکومت کولگ سمجھ جائے گی‘ ضمنی انتخابات کو خطرے کی گھنٹی سمجھنا ہی دانش مندی ہے‘ محض وعظ و نصیحت سے نہیں‘ ٹھوس عمل اقدامات سے شفاف انتخابات اور بے عیب کامیابی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ‘کوئی سوچے تو؟فی الحال تو ڈسکہ اور نوشہرہ نے کرم ایجنسی کی کامیابی کا مزا بھی کرکرا کر دیا ہے۔(تحریر:ارشاداحمد عارف)
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More