الیکٹرک گاڑیاں لانےسےقبل پرانی گاڑیوں کا سوچناچاہئےتھا،ٹیوٹاپاکستان

سماء نیوز  |  Feb 25, 2021

پاکستان میں ٹیوٹا گاڑیاں بنانے والےادارے انڈس موٹرزکمپنی کے سی ای او اصغرجمالی نے کہا ہے کہ اگرپاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کو آگے لانے کا مقصد کاربن کا پھیلاؤ روکنا ہے توپرانی گاڑیوں کا ختم کرنے کا پہلے سوچنا چاہئے تھا۔

 اصغرجمالی نےکہا ہے کہ پاکستان میں پرانی گاڑیوں،بسوں اورٹرکوں کے دھوئیں سے آلودگی پھیلتی ہے۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کا منصوبہ اس وقت بنایا جب ماحولیات کو بہتربنانے کے لیے کئی اقدامات کئے جاسکتےتھے۔

انھوں نے کہا کہ کاربن کا پھیلاؤ روکنے کےلیے الیکٹرک گاڑیاں آخری اقدام ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔جاپان جیسے ملک میں پرانی گاڑیوں کےخاتمے کےلیےسخت پالیسیاں رائج ہیں جوان کی جانب سے کاربن پھیلانے کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ بھارت نے حالیہ پرانی گاڑیوں سے متعلق پالیسی نافذ کی جس کا مقصد نئی گاڑیوں کی فروخت بڑھانا،فضائی آلودگی کم کرنا اور تیل کی امورٹ پراخراجات کم کرنا ہے۔

پاکستان نے بھی حالیہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی پر غور شروع کیا جس کا مقصد موسمی تبدیلی اور تیل کی امپورٹ پر آنےوالے اخراجات کم  کرنا ہے۔ اصغرجمالی کا کہنا ہے کہ مختلف الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی میں کون سی ٹیکنالوجی کامیاب رہےگی،اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ اس پالیسی کے تحت کونسی گاڑی کی ٹیکنالوجی بہترہوگی۔ مثال کےطور پر ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیتھیم یا ہائی ڈروجن سیل والی بیٹری کا استعمال درست فیصلہ ہوگا۔

انڈس موٹرز کےسی ای او نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق معاملات واضح ہونے میں 3 سے 5 برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس وجہ سے انڈس موٹرز نے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

 پاکستان میں (ہیچ بیکس) بغیرڈگی والی گاڑیاں کیوں کم ہیں 

 اصغرجمالی نے کہا ہے کہ نئی آنے والی گاڑیوں میں ہیچ بیکس موجود ہیں۔ کیا کی پیکانٹو اچھی گاڑی ہے۔ یونائیٹیڈ موٹرز کی الفا اینڈ براؤو موجود ہے۔ ایم جی موٹرز نے بھی 20 لاکھ روپے مالیت کے اندرہیچ بیک گاڑی لانے کا کہا ہے۔ فا کمپنی کی وی ٹو گاڑی بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔

ان گاڑیوں کےعلاوہ سوزوکی کے پاس 4 ہیچ بیکس گاڑیاں موجود ہیں۔ آلٹو،ویگن آر،کلٹس اور سوئفٹ ان میں شامل ہیں۔ ریگل موٹرز نے  پرنس پرل متعارف کرائی ہے۔

اصغرجمالی نےبتایا کہ ٹیوٹا کی مشہور ہیچ بیک گاڑی وٹس جاپان میں استعمال ہونے کےبعد پاکستان لائی گئی۔پاکستان میں یہ اس لیے نہیں بنائی جاتی کیوں کہ اس کا کاروباری کیس نہیں بنتا۔

امورٹڈ اور استعمال شدہ گاڑیوں کی پاکستان آمد کی مخالفت

اصغرجمالی نے مخالفت کرتےہوئے کہا کہ کمپلیٹلی بلٹ یونٹ ( سی بی یو ) کی صورت میں پاکستان آنےوالی تمام اشیاء کے خلاف ہیں۔ یہ پاکستان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

پاکستان میں بنے والی ہر گاڑی کے پیچھے 6 شعبوں کا روزگار ہوتا ہے۔ اگر باہر سے گاڑیاں پاکستان کم تعداد میں لائی جائیں گی یا پاکستان میں گاڑی سازی کی صنعت کو ایک یونٹ سے زیادہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 6 لوگوں کی نوکریاں یا ختم ہوجائیں گی یا نہیں نکلیں گی۔

پاکستان کی گاڑی سازی کی صنعت میں مقابلے کا رجحان

اصغرجمالی نے کہا کہ انڈس موٹرز کسی بھی گاڑی بنانے والے ادارے کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ شینگن نے اپنی گاڑی سیڈان کی اچھی قیمت دی۔ چینی ادارے نے حالیہ السوان سیڈان متعارف کروائی۔ یہ پاکستان میں کم قیمت کی سیڈان گاڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح نئی گاڑیوں پر ردعمل کا اظہار کرتےہیں۔ ہر ادارہ یہاں کاروبار کرنے آیا ہے۔

انڈس موٹرز کے مسقبل میں منصوبے

اصغرجمالی نے بتایا کہ انڈس موٹرز نے5 ارب روپے سے زیادہ کا سرمایہ اپنے یونٹس کی استعداد 65 ہزار یونٹس سے 76 ہزار یونٹ تک بڑھانے میں لگایا ہے۔ تاہم کرونا وائرس کےباعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈس موٹرز کچھ گاڑیوں کے نئے ماڈلز لانچ کرنا چاہتی ہے جن میں کراس اوور ایس یو وی کرولا کراس شامل ہے۔ تاہم پاکستان میں وٹس اور راو4 کو کاروباری کیس نہیں بنتا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More