کروناویکسین دنیاکےہرفرد کو کب تک لگ جائیگی؟رپورٹ نے کھلبلی مچادی

روزنامہ اوصاف  |  Apr 10, 2021

اسلام آباد(نیو زڈیسک)کورونا کی وبا سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائے جانے کا عمل دنیا کے بیشتر ممالک میں جاری ہے تاہم اس کی دستیابی خاصی کم اور مانگ بہت زیادہ ہے جس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے تمام افراد کو اس ویکسین کے لگنے میں کافی طویل عرصہ درکار ہوگا۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آور ورلڈ ان ڈیٹا کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ اس وقت 138 ممالک میں ساڑھے 56 کروڑ خوراکیں فراہم کی گئی ہیں اور 30 مارچ 2021 تک تقریباًایک کروڑ 39 لاکھ افراد کو خوراکیں دی جاچکی ہیں۔بظاہر تو یہ ویکسین کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے لیکن یہ دنیا کے 7 ارب 80 کروڑ افراد کے لحاظ سے صرف 7 اعشاریہ 2 فیصد لوگوں کی خوراک بنتی ہے اور وہ بھی صرف پہلا ڈوز۔ واضح رہے کہ خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ ان ویکسینوں کو اپنا پورا اثر دکھانے میں دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر اسی رفتار سے ویکسین لگائی جاتی رہی تو دنیا بھر تمام افراد کو ویکسین لگنے میں 3 سال سے بھی زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران اس وبا کا خطرہ اپنی پوری شدت کے ساتھ منڈلاتا رہے گا۔ گو ویکسین لگنے کے بعد بھی کوئی ضمانت نہیں کہ کرونا کسی شخص کو متاثر نہ کرے لیکن ماہرین کی رائے میں بہرحال اس وائرس کی شدت وہ نہیں رہے گی جو بغیر ویکسین لگے شخص کے ساتھ پیش آ سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ابھی دنیا کے ماہرین اس وائرس اور اس کی مختلف اقسام کو ٹھیک سے سمجھنے کے ہی مرحلے میں ہیںاکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کا کہنا ہے کہ امیر ممالک میں زیادہ تر بالغ آبادی کو سن 2022 کے وسط تک ٹیکے لگائے جا سکتے ہیں۔معاشی لحاظ سے درمیانے درجے کے ممالک کے لیے یہ ٹائم فریم سن 2022 کے آخر تک یا سن 2023 کے اوائل تک جاسکتی ہے جبکہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں بڑے پیمانے پر کرونا ویکسین لگنے کے لیے سن 2024 تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے وہ بھی اس صورت میں اگر انہیں ویکسین کی یہ سہولت دستیاب ہوجائے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More