انخلا کے بعد افغانستان میں فضائی حملوں میں مدد نہیں کریں گے، سینٹکام کمانڈر

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 14, 2021

کارلا باب/ ویب ڈیسک — 

امریکی فوج کے مشرق وسطی کے لیے کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہا کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد فضائی حملوں میں افغان فورسز کی مدد کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انخلا کے بعد انسداد دہشتگردی سے متعلق فضائی حملے محدود ہوں گے اور ان اہداف پر ہوں گے جہاں سے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہو گی۔

سینٹکام کے کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں کیا جب وہ بیرون ملک روانگی کے لیے فوجی طیارے میں سوار تھے۔

’’ افغانستان سے نکلنے کے بعد اگر ہم وہاں کوئی بھی فضائی حملہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہو گی۔ حملے سے پہلے ہمیں یہ پتا چلنا ضروری ہے کہ کون امریکہ کی سرزمین پر، ہمارے اتحادیوں یا شراکت داروں پر حملہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔

جنرل میکینزی کی جانب سے افغانستان سے انخلا کے بعد اس شورش زدہ ملک میں امریکہ کے کردار کی غیر مبہم وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہاں داعش اور القاعدہ کے خلاف حملوں میں کمی آئی ہے اور پینٹگان چین اور روس کے ساتھ تقابل کو اپنی ترجیح کے طور پر بیان کر رہا ہے۔

جنرل میکینزی نے بتایا کہ مشرق وسطی میں ان کی فوجیوں کی تعداد اب چالیس ہزار ہے۔ اب سے اٹھارہ ماہ قبل یہ تعداد ساٹھ سے اسی ہزار کے قریب تھی اور اس عرصے میں واضح کمی آئی ہے۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareکیا امریکہ ایران جوہری معاہدے کا دوبارہ حصہ بنے گا؟EmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More