کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں ٹی بی سے اموات کی تعداد میں اضافہ

اردو نیوز  |  Oct 15, 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ’کورونا وائرس کے باعث طبی سہولیات کی فراہمی میں پیش آنے والے خلل کے باعث دنیا بھر میں ٹی بی (تپِ دِق) سے اموات میں اضافہ ہوگیا ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق برسوں سے اس قابل علاج مرض کو کنٹرول کرنے میں ہونے والی پیش رفت کے لیے یہ ایک دھچکہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے جمعرات کو کہا کہ ’یہ ایک تشویش ناک خبر ہے جو عالمی سطح پر آگاہی کا کام کرے گی تاکہ اس قدیم لیکن قابل علاج بیماری سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی تشخیص، علاج اور دیکھ بھال میں موجود رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔‘

عالمی ادارہ صحت نے اپنی 2020 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’کورونا کی وجہ سے ٹی بی کے خاتمے کی طرف پیش رفت متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے کیسز کی تشخیص اور علاج نہیں ہو رہا۔‘

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں تقریباً 41 لاکھ افراد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان کی تشخیص یا سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا، یہ تعداد 2019 میں 29 لاکھ مریضوں کی تعداد سے زیادہ ہوگئی ہے۔

کووڈ 19 نے ٹی بی کے مریضوں کے لیے صورت حال کو مشکل بنا دیا ہے کیونکہ صحت کے فنڈز کو وبا کے مرض پر قابو پانے کے لیے مختص کردیا گیا ہے اور لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیکھ بھال تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج کے خواہاں لوگوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے، یہ تعداد 2020 میں 28 لاکھ تھی جو 2019 سے 21 فیصد کم ہے۔

ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ ’یہ رپورٹ ہمارے ان خدشات کی تصدیق کرتی ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے صحت کی سہولیات میں رکاوٹ ٹی بی کے خلاف برسوں کی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘

صحت کے فنڈز ٹی بی کے بجائے کورونا وائرس کنٹرول کرنے کے لیے مختص کردیے گئے (فائل فوٹو: روئٹرز)رپورٹ کے مطابق ’2020 میں ٹی بی کی وجہ سے دنیا بھر میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے 2 لاکھ 14 ہزار افراد ایڈز کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔‘

’اسی طرح 2019 میں ٹی بی کی وجہ سے دنیا بھر میں 12 لاکھ اموات ہوئیں جن میں سے 2 لاکھ 9 ہزار افراد ایڈز سے بھی متاثرہ تھے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ٹی بی سے ہلاکتوں میں اضافہ 30 ممالک میں دیکھا گیا ہے جہاں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More