لاک ڈاؤن میں آن لائن انتہا پسندانہ مواد دیکھنے کا رجحان بڑھا: ماہرین

اردو نیوز  |  Oct 19, 2021

ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کے باعث گذشتہ 18 ماہ میں انتہا پسندی پر مبنی آن لائن مواد کے ساتھ لوگوں کی مصروفیت بڑھی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ریسرچ اینڈ پالیسی کے سربراہ جیکب ڈاوی نے کہا کہ ’ہم نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے انتہا پسندی کے حوالے سے آن لائن سرگرمی میں اضافہ دیکھا ہے۔‘

’یہ صرف دہشت گردی سے متعلق مواد کی بات نہیں ہے، بلکہ آن لائن نقصان پہنچانے والا بہت سا دیگر مواد بھی موجود ہے۔‘

گذشتہ برس برطانیہ کے کاؤنٹر ٹیررازم انٹرنیٹ ریفرل یونٹ نے کہا تھا کہ پچھلے برس کے مقابلے میں مشکوک دہشت گردی پر مبنی مواد میں سات فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔

یونیورسٹی کالج لندن میں سکیورٹی اینڈ کرائم سائنس کے پروفیسر پاؤل گِل کا کہنا تھا کہ ’2019 میں داعش کی شکست کے بعد دہشت گردوں کی دھمکیاں بڑھ رہی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کو کوئی شکوہ ہے تو آپ آن لائن ایسے افراد کو ڈھونڈ سکتے ہیں جو آپ کی مدد کریں گے۔‘

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے مطابق برطانیہ کی سکیورٹی کے لیے اسلامی انتہا پسندی ایک بڑا خطرہ ہے، لیکن دائیں بازو کی انہتا پسندی بھی ایک خطرہ ہے۔

2019 سے 2020 تک برطانیہ کے کاؤنٹر ریڈیکلائزیشن پروگرام کے تحت 51 فیصد افراد ایم یو یو کیٹیگری میں تھے، جبکہ باقی اسلامی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی میں ملوث تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More