بھارتی کسانوں کا خون رنگ لےآیا،مودی پسپا

سماء نیوز  |  Nov 19, 2021

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک میں متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کردیا جس کے خلاف کسان ایک سال سے زائد عرصے سے سراپا احتجاج تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ زرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے ذریعے واپس لے لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے رواں ماہ کے اختتام پر ہونے والے اجلاس کے دوران وہ زرعی قوانین کی واپسی کے لیے تمام آئینی تقاضے پورے کریں گے۔

وزیرِ اعظم مودی نے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش اور پنجاب میں تین ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو زرعی قوانین کی منظوری کے خلاف شمالی ریاستوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا تھا اور ان ریاستوں میں عنقریب ہونے والے انتخابات اور سن 2024 کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی مخالفت کا خاتمہ چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ کسان زرعی قوانین کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، جس کے خلاف پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور راجستھان سے ہزاروں کسان دہلی کے داخلی راستوں پر نومبر 2020 سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کالے قوانین واپس لیے جائیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کرنے والے کسانوں کے مرکزی رہنما راکیش ٹکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا جاتا۔

کسان رہنما کا کہنا تھا کہ تقریباً 700 کسان اس تحریک کے دوران ہلاک ہوئے لیکن حکومت نے انتہائی بے دردی کا مظاہرہ کیا اور کسانوں کی موت پر ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی نے اگلے سال پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ممکنہ شکست کے خوف سے یہ فیصلہ کیا ہے۔ کیوں کہ اب تک جو بھی سروے ہوئے یا میڈیا میں جو رپورٹس آرہی ہیں ان سب میں بی جے پی کی شکست کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے۔

بھارت کی پارلیمان نے اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باوجود گزشتہ برس ستمبر میں زرعی اصلاحات سے متعلق تین بل منظور کیے تھے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی اصلاحات کو بھارت میں زرعی شعبے کی بہتری کے لیے سنگِ میل قرار دیا تھا جب کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اسے کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب کسانوں کا مؤقف ہے کہ زرعی قوانین ان کے مفادات کے خلاف ہیں اس لیے حکومت انہیں فوری واپس لے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More