’چین چھوٹے پڑوسی ممالک کو ہراساں کر کے تسلط قائم نہیں کرے گا‘

اردو نیوز  |  Nov 22, 2021

چین کے صدر شی جنپنگ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنطیم آسیان کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ چین چھوٹے ہمسایہ ممالک کے ساتھ زور زبردستی نہیں کرے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو چین اور آسیان ممالک کے درمیان منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس سے خطاب میں صدر شی جنپنگ نے کہا کہ چین علاقائی امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دے گا

دس جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ورچوئل اجلاس کا آغاز پیر کو ہوا ہے جس سے چین سیمت رکن ممالک کے سربراہان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ 

اجلاس سے خطاب میں صدر شی جنپنگ نے مزید کہا کہ چین کبھی بھی تسلط قائم کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے سائز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے ممالک کو ہراساں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ مداخلت کو ختم کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ بیجنگ نے بحیرہ جنوبی چین پر دعوے نے متعدد علاقائی ممالک سیمت جاپان سے لے کر امریکہ تک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

صدر شی جنپنگ نے چین سے متعلق خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ ’چین آسیان ممالک کا اچھا ہمسایہ تھا اور ہے، اچھا دوست اور شراکت دار رہے گا۔‘

انہوں نے ویتنام جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور آسیان ممالک نے سرد جنگ کی تاریکی سے نجات حاصل کر لی ہے جب علاقہ سپر پاورز کے درمیان مسابقت اور تنازعے کا شکار تھا اور مل کر علاقائی استحکام قائم رکھا۔

علاقائی ممالک بحیرہ جنوبی چین پر بیجنگ کے دعوے کے مخالف ہیں۔ فوٹو اے ایف پیعلاوہ ازیں جب بھی امریکہ نے چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اور معاشی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش میں علاقائی اتحادیوں سے بات چیت کی کوشش کی چین نے امریکہ کو ’سرد جنگ ذہنیت‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آسیان ممالک کے اکتوبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی شرکت کی تھی جس سے خطاب میں انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

آسیان کے رکن ممالک میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں جبکہ پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک شراکت دار کے طور پر تنظیم کے ساتھ منسلک ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More