کیا فیس بک آپ کی باتیں سنتا ہے؟ جانیے اس آسان طریقے سے

بول نیوز  |  Nov 24, 2021

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کے متعلق سوچ رہے ہوتے یا بات کررہے ہوتے ہیں اور فیس بک پر اُسی چیز کے متعلق  اشتہار نمودار ہوجاتا ہے۔

ایسا ہونا ہمیں اس شک میں مبتلاکردیتا ہےکہ کہیں فیس بک ہماری باتیں تو نہیں سنتا۔ ایسا صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ دنیا کے لاکھوں لوگوں کا ماننا ہے۔

تاہم فیس بک کی جانب سے اس الزام کی سختی سے تردید کی جا چکی ہے اور اب ایک کینیڈین ٹیک گرو نے بھی اسے غلط ثابت کر دیا ہے اور لوگوں کو بھی ایک آسان طریقہ بتا دیا ہے جس کے ذریعے وہ معلوم کر سکتے ہیں کہ فیس بک ان کے فون کے ذریعے ان کی باتیں سن رہا ہے یا نہیں۔

دی سن کے مطابق اس کینیڈین ٹیکنالوجی ماہر کا نام مورٹن رینڈ ہینرکسن ہے، جس نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ @mor10webپر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ آپ اپنے کسی دوست کی مدد سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ فیس بک آپ کی باتیں سنتا ہے یا نہیں۔ اس کےلیےآپ کو طویل صبر کی ضرورت ہو گی۔ ایسا کریں کہ آپ اور آپ کا وہ دوست جب بھی ملیں، کسی ایک خاص چیز کے متعلق گفتگو کریں۔ مثال کے طور پر کسی کپڑوں کے اسٹور کے بارے میں یا کسی جوتوں کے برانڈ کے بارے میں۔

مورٹن کہتےہیں کہ ’اس دوران آپ کو ایک احتیاط بطور خاص کرنی ہوگی کہ آپ اور آپ کا دوست جس چیزکے متعلق بات کر رہے ہوں اس کےمتعلق کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا گوگل پر بالکل بھی سرچ مت کریں۔ آپ نے اس چیز کے بارے میں صرف اپنے فون کو قریب رکھتے ہوئے باتیں کرنی ہیں، انٹرنیٹ پر یکسر سرچ نہیں کرنا۔ اب آپ کو دیکھنا ہے کہ آیا فیس بک آپ کو اس چیز کے متعلق اشتہارات دکھاتا ہے یا نہیں؟ یقینا فیس بک آپ کو اس چیز کے اشتہارات نہیں دکھائے گا کیونکہ فیس بک لوگوں کی باتیں نہیں سنتا۔ وہ اشتہارات دکھانے کے لیے لوگوں کی پسند اور ناپسند کا اندازہ ان کی سرچ ہسٹری سے لگاتا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس پر جو سرگرمیاں کرتے ہیں ان پر فیس بک کی نظر ہوتی ہے اور انہی سے وہ صارفین کے مزاج، ضرورت اور پسند و ناپسند کا تعین کرتا اور اسی تناسب سے انہیں اشتہارات دکھاتا ہے۔‘

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More