کوویڈ میں اضافہ، جاپان میں درجن بھر شہروں میں معاشی سرگرمیاں محدود کرنے کا حکم

بول نیوز  |  Jan 20, 2022

کوویڈ کیسز میں اضافے کے باعث جاپانی مرکزی حکومت نے ٹوکیو  سمیت درجن بھر شہروں میں 3 ہفتوں تک معاشی سرگرمیاں محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماہرین صحت نے حکومتی منصوبے کی حمایت کردی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق جاپانی حکومت نے  ٹوکیو کے کچھ علاقوں سمیت ملک بھر کہ درجن بھر شہروں میں نئی کوویڈ پابندیوں کا اطلاق کا اعلان کیا ہے۔ اطلاق جمعہ سے مؤثر ہوگا۔

حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پابندیاں معمولات زندگی کو مکمل مفلوج ہونے سے بچانے کے تناظر میں ہیں۔ حکومتی وزیر برائے معیشت ڈیشیرو یاماگیوا نے کہا، ماہرین صحت کے پینل نے بدھ کے روز 13 شہروں کو 21 روزہ پابندی کے تحت رکھنے کے منصوبے کی منظوری دی۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے وزیر اعظم فومیو کشیدا سرکاری ٹاسک فورس کے اجلاس میں کوویڈ کے بابت نئے اقدامات کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

ستمبر میں کوویڈ کی ابتدائی لہر کے خاتمہ کے بعد سے جاپان بتدریج سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کو بڑھا رہا تھا، ماہریں کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ملک کی جانب سے ویکسین کی ابتدائی دو خوراکیں تیار کرنے میں تیزی سے پیش رفت ہونا ہے۔

تیزی سے بڑھتے ہوئے انفیکشن نے پہلے ہی کچھ شہروں میں ہسپتالوں، اسکولوں اور دیگر شعبہ زندگی کو مفلوج کرنا شروع کر دیا ہے۔

حکومت مقامی گورنروں بشمول ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوائیکے کی درخواستوں کے بعد کارروائی کررہی ہے۔

یاد رہے صرف ٹوکیو کہ طول و ارض میں منگل کو 5,185 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔جبکہ ملک بھر میں 32,000 سے زائد کیسز درج ہوئے ہیں۔

جاپانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 134,000 سے زائد مریض اب کوویڈ کے باعث قرنطینہ یا اسپتال میں داخل ہیں۔

حکومتی مشیر شیگیرو اومی نے کہا کہ ویکسین اب اومیکرون کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں ناکام  ہے، جس کے باعث کوویڈ سے ایس او پیز کے تحت ہی نبٹا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں جن شہروں میں پابندیاں عائد ہوئی ہیں ان میں اوکیناوا، ہیروشیما اور یاماگوچی شامل ہیں۔ دیگر شہر، بشمول اوساکا، جہاں منگل کو 5,396 نئے کیس رپورٹ ہوئے،جنہیں بعد میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تقریباً 80 فیصد جاپانیوں نے اپنی پہلی دو ویکسین کی خوراکیں حاصل کرلی ہیں۔ حال ہی میں جاپانی حکومت نے عمر رسیدہ افراد کے لیے دوسرے اور تیسرے بوسٹر ڈوذ کے درمیان وقفہ کو آٹھ سے کم کرکے چھ ماہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ جاپان کی مرکزی حکومت نے اب تک مکمل لاک ڈاؤن کی مزاحمت کی ہے اور شہریوں سے ای او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی اپیل کی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے تمام اقدامات، غیر منصفانہ ہیں جو عوام کی زندگی پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

 

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More