افغانستان میں زلزلہ: ’ہمارے کلینک میں صرف پانچ بستر ہیں مگر 500 مریض آچکے ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Jun 24, 2022

Gayan Comprehensive Health Centerکلینک کے باہر عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں تاکہ زخمیوں کو طبی امداد پہنچائی جا سکے

’ہمارے کلینک پر صبح سے پانچ سو مریض آچکے ہیں۔ ان میں سے دو سو کی موت ہوئی ہے۔‘

مشرقی افغانستان کے ایک چھوٹے سے کلینک میں کام کرنے والے محمد گل نے بلا جھجھک بی بی سی کو یہ بتایا ہے۔ اس کلینک میں صرف پانچ بستر ہیں اور منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد یہاں علاج کی ناکافی سہولیات ہیں۔

محمد گل کہتے ہیں کہ ’کلینک کے تمام کمرے تباہ ہو چکے ہیں۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ پکتیکا صوبے کے ایک دیہی ضلعے میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے گنے چنے مریضوں کو ریسکیو کیا گیا تاکہ ان کا علاج دوسرے شہروں میں ہو سکے۔ جبکہ دو ڈاکٹر ایک عارضی آؤٹ ڈور کلینک میں ان مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جن کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا۔

اس کلینک میں موجود جنریٹر، جو اب بجلی کا واحد ذریعہ ہے کے لیے محدود ایندھن ہے اور تاحال دیگر صوبوں کے حکام نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں ہو سکے۔ دریں اثنا زلزلے کے باعث اموات اور زخمیوں کی آمد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

محمد گل بتاتے ہیں کہ ’درجنوں لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔ میرا نہیں خیال وہ ایک اور رات زندہ بچ پائیں گے۔‘

Gayan Comprehensive Health Center

چھ اعشاریہ ایک کی شدت والا یہ زلزلہ دو دہائیوں میں افغانستان کا بدترین زلزلہ ہے۔ منگل کی صبح یہ ملک کے مشرقی حصے میں جانی و مالی نقصان کا باعث بنا۔

طالبان حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق تاحال کم از کم 1000 اموات اور 1500 زخمیوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تاہم شدید بارشوں اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات کی وجہ سے اموات اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

زلزلے نے خاص کر ان کمزور عمارتوں کو نشانہ بنایا جو پہاڑی علاقوں پر واقع تھیں اور زلزلے کے جھٹکے برداشت نہ کر سکیں۔ زلزلے کے جھٹکوں سے سینکڑوں گھر تباہ ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔

گیان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ خدشہ ہے کہ کئی لوگ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

دو برس قبل بین الاقوامی فلاحی تنظیموں نے ادھر ایک کلینک قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد معمولی امراض سے نمٹنا تھا اور بہتر طبی امداد کے لیے مریضوں کو بڑے شہروں کے ہسپتالوں کی طرف بھیجنا تھا۔ یہاں حادثات اور ایمرجنسی کے لیے کوئی الگ انتظامات نہیں۔

Gayan Comprehensive Health Centerاس کلینک کا مقصد صرف معمولی امراض سے نمٹنا تھا

سخت گیر طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی فلاحی ادارے ملک سے جا چکے ہیں۔ ملک میں صحت کا نظام کارکنان اور سہولیات کی شدید قلت سے دوچار ہے۔

طالبان کی وزارت دفاع امدادی کارروائیوں کی سربراہی کر رہی ہے اور زلزلے کے بعد حکومت نے عالمی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں طبی کارکنان اور ضروری سامان بھیج رہے ہیں اور پڑوسی ملک پاکستان میں موجود فلاحی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔

Getty Images

تاہم افغانستان میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت جانے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اکثر ممالک نے افغانستان سے تعلق منقطع کر لیے تھے جبکہ اس کے بینکاری کے شعبے پر پابندیاں لگائی گئی تھیں جس سے شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔

سینیئر طالبان رہنما عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ ’حکومت کو بدقسمتی سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ تو اس لیے وہ ضرورت کے تحت لوگوں کی مالیاتی امداد نہیں کر پا رہی۔‘

’بین الاقوامی امدادی ادارے، ہمسایہ ممالک، علاقائی ممالک اور دنیا بھر کے ملکوں نے مدد کی پیشکش کی ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس امداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ زلزلے سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔‘

Gayan Comprehensive Health Centerامداد نہ ملنے پر کلینک کا محدود طبی سامان جلد ختم ہوجائے گا

قریبی ضلعے کے ایک امدادی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ جب منگل کو طالبان کے قائم مقام ضلعی گورنر نے گیان کا دورہ کیا تو لوگوں نے بلند آواز میں ان کے خلاف نعرے بازی کی اور ان سے کہا کہ یہاں سے چلے جائیں۔

یہ کارکن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے آیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں طالبان رہنماؤں نے مزید مدد اور وسائل بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’طالبان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ اس تباہی سے نمٹ سکیں۔ یہاں کوئی نظام رائج نہیں۔ اور ہمیں بین الاقوامی مدد کی بھی امید نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا افغانستان کو بھول چکی ہے۔‘

طالبان کی آمد سے قبل بھی ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے امدادی اداروں کے پاس محدود صلاحیت تھی۔ ان کے پاس کچھ طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود تھے۔

پکتیکا کے طبی حکام کے مطابق علاقے میں درد کش ادویات اور اینٹی بایوٹکس کی شدید قلت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں زلزلہ: طالبان کا ریسکیو آپریشن ’تقریباً مکمل‘، پاکستان نے سرحدی راستے کھول دیے

پاکستان کے کون سے علاقے زلزلے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں؟

مکران میں سونامی کی ’پیش گوئی مشکل‘، مگر ’وقت آن پہنچا ہے‘

جب 45 سیکنڈ میں پورا کوئٹہ شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا

Gayan Comprehensive Health Centerگیان کو افغانستان کے دیگر صوبوں اور بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہے

گیان کے عارضی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا تعلق قریبی شہر غزنی سے ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر یہاں مدد فراہم کرنے آئے ہیں۔ جب وہ ادھر آئے تو لوگوں نے انھیں گھیر لیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک جوان باپ چھاتی کے فریکچر سے متاثر ہیں۔ ’وہ روتے ہوئے اپنے خاندان والوں کو پکار رہے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اگر وہ زندہ نہیں تو مجھے مرنے دو۔‘

اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض مرد ہیں جبکہ ملبے تلے دبی خواتین اور بچوں کا تباہ حال عمارتوں سے نکلنا مشکل لگتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بچے اس کلینک میں بغیر والدین کے آئے جس میں ایک آٹھ سالہ لڑکا شامل ہے۔

’وہ لوگوں کی منتیں کر رہا تھا کہ کوئی اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو بچا لے جو گھر پر پھنسے ہوئے ہیں۔ پھر اس نے کسی کو کہتے سنا کہ وہ مر چکے ہیں۔ وہ رونے لگا اور بے ہوش ہو گیا۔‘

Gayan Comprehensive Health Centerایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کلینک پر کچھ بچے اپنے والدین کے بغیر آئے

بی بی سی کو ایسی کئی تصاویر بھیجی گئی ہیں جن میں زخمی حالت میں لوگ کلینک میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ علاقے میں لاشیں زمین پر پڑی ہوئی ہیں۔

فی الحال وہاں کوئی سرکاری امدادی کارکن موجود نہیں تاہم قریبی علاقوں سے لوگ پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ارگون سے آئے ایک امدادی کارکن نے عمارتوں میں پھنسے کئی لوگوں کو نکالا۔ وہ کہتے ہیں کہ صبح سے وہ 40 لاشیں نکال چکے ہیں اور اکثر نوجوان اور بچے تھے۔

جو لوگ اس تباہی سے زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے ان کے لیے بھی مستقبل قریب مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

ایک رضاکار ڈاکٹر نے بتایا کہ ’ہمارے پاس زخموں کو صاف کرنے کے لیے صاف پانی بھی موجودہ نہیں اور یہاں شدید گرمی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جلد انفیکشن پھیل جائے گا۔‘

اس تحریر میں کچھ لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More