سمیع چوہدری کا کالم: بابر اعظم نے ساری تنقید باؤنڈری پار اڑا دی

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

ڈیوڈ وِلی نے جب اپنے ترچھے سے رن اپ مارک سے دوڑنا شروع کیا، اسی وقت بابر اعظم طے کر چکے تھے کہ گیند کہاں پر گرے گی اور اسے دائرے میں جمگھٹا لگائے فیلڈرز کے بیچوں بیچ سے کیسے باؤنڈری پار رسید کریں گے اور ایک نئی تاریخ رقم کر دیں گے۔

بابر اعظم ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں دوسری سینچری بنانے والے پہلے پاکستانی بلے باز بنے اور یہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے بہترین اوپننگ پارٹنرشپ کا بھی ریکارڈ تھا۔ اس ریکارڈ نے 197 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کا وہ ریکارڈ توڑ ڈالا جو انھی اوپنرز نے کچھ عرصہ پہلے اپنا ہی قائم کردہ ایک اور ریکارڈ توڑ کر بنایا تھا۔

گذشتہ چند ہفتے بابر اعظم کے لیے بہت تکلیف دہ رہے ہیں۔ اگرچہ اُن کی ٹیم ایشیا کپ میں عمدہ کھیل رہی تھی اور جیت بھی رہی تھی مگر خود بابر اعظم کریز پر گم سم سے نظر آتے تھے۔ انڈیا کے خلاف پہلے میچ میں محض دس رنز بنا کر وہ بھونیشور کمار کی شارٹ پچ کے جال میں پھنس گئے۔

ہانگ کانگ کے خلاف بھی وہ صرف نو ہی رن بنا پائے تھے کہ احسان خان کے دام میں آ گئے، انڈیا کے خلاف دوسرے میچ میں روی بشنوئی کی سپن نے انھیں الجھا ڈالا اور جلد پویلین لوٹنا پڑا۔ افغانستان کے خلاف تو فضل حق فاروقی کی اِن سوئنگ گویا اُن کے سر سے ہی گزر گئی اور چشم فلک نے دیکھا کہ بابر جیسا دنیا کا بہترین بلے باز بھی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو سکتا ہے۔

جب ٹیم کے سب سے معتبر بلے باز کی فارم ایسے انحطاط کا شکار ہو تو باقی ماندہ بیٹنگ لائن بھی دباؤ میں آ جایا کرتی ہے۔ مگر محمد رضوان سے آزمودہ کار بلے باز کی موجودگی اس خلا کو پُر کرنے کی سعی کرتی رہی اور انڈیا کو ہرا کر پاکستان فائنل تک بھی پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بابر اعظم نے ثابت کیا کہ انھیں ناقدین کی رائے سے ’کوئی فرق نہیں پڑتا‘

صائم ایوب کا سعید انور سے موازنہ: ’دادا دیکھنا یہ لڑکا بڑا پلیئر بنے گا‘

کیچ آؤٹ پر نو کراسنگ اور ’منکڈ‘ اب عام رن آؤٹ: آئی سی سی کے سات نئے قوانین کون سے ہیں؟

بلاشبہ صحافت کا کام خامیوں کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے مگر پاکستان میں کرکٹ جرنلزم کچھ عجیب ہی دلچسپی کا مظہر ہے۔ یہاں مین سٹریم تجزیہ کاری کے پانیوں میں کئی ایک تعصبات بہتے نظر آتے ہیں۔ کہیں ریجن کا تعصب ہے تو کہیں کوئی ذاتی مفاد آڑے آ رہا ہے۔ کسی کھلاڑی سے انٹرویو نہ لے پانے کا غصہ ہے تو کسی کا انٹرویو لینے کا شوق ہے۔

کرکٹ کی جغرافیائی صحافت نے پاکستان کرکٹ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اس نقصان میں بہت کلیدی کردار بذاتِ خود پی سی بی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا رہا ہے۔

یہ عمومی شعور کے لیے قابلِ فہم بات ہے کہ جیسے ہر انسان کی کارکردگی کے کچھ اچھے اور کچھ بُرے دن ہوتے ہیں، ایتھلیٹس کا معاملہ بھی عام انسانوں سا ہی ہوتا ہے۔ مگر یہاں ایشیا کپ کے دوران ہی ہر طرف سے شور اٹھنے لگا کہ پاکستان کو یہ اوپننگ جوڑی توڑ دینی چاہیے، سٹرائیک ریٹ بہت کم ہے، یہ عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے، یہ دونوں ایک ہی طرح کی کرکٹ کھیلتے ہیں، پاور پلے کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے وغیرہ وغیرہ۔

اور جب پاکستان ایشیا کپ کے آخری دو میچز ہارا تو تبصروں، تجزیوں اور مشوروں کا ایک انبار سا سج گیا۔ کوئی بولا احمد شہزاد کو موقع دینا چاہیے، کچھ کے خیال میں بابر اعظم کو ہٹا کر سرفراز احمد کو قیادت میں واپس لانا نشاطِ ثانیہ کی دلیل تھی، کچھ نے کہا کہ عمر اکمل میں کیا خرابی ہے اور اکثر یہ کہتے پائے گئے کہ شعیب ملک ہی پاکستان کے مڈل آرڈر مسائل کا اول و آخر حل ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز سے پہلے پریس کانفرنس میں بھی میڈیا نے بابر اعظم کے سامنے خوب طبع آزمائی کی مگر انھوں نے سٹرائیک ریٹ کی ساری بحث کو سیدھے بلے سے خاموش کروا دیا۔ پہلے میچ میں شکست کے بعد محمد رضوان نے بھی پریس کانفرنس میں مسکراتے مسکراتے اپنے کرب کا اظہار کیا۔

یہاں رضوان اور بابر اعظم کے پاس ان سبھی سوالوں کا جواب دینے کا موقع تھا اور قسمت نے بھی یاوری کی کہ معین علی ٹاس جیت کر غلط فیصلہ کر بیٹھے۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ وکٹ مزید سُست ہو گی اور دوسری اننگز میں بیٹنگ قدرے دشوار ہو گی۔ مگر جب تک وہ خود کریز پر آ کر پاکستانی ڈیتھ بولنگ کے چھکے چھڑا رہے تھے، تب تک وکٹ ڈرامائی طور پر بلے بازی کی جنت بن چکی تھی۔

اگرچہ عموماً بابر اعظم اور محمد رضوان نپی تلی سی دلکش کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں مگر اس اوپننگ پارٹنرشپ میں یہ دونوں خاصے ’برہم‘ سے نظر آئے۔ اپنی روایتی سمارٹ کرکٹ کے علاوہ انھوں نے مار دھاڑ کا بھی خوب مظاہرہ کیا۔

اہم بات یہ تھی کہ اس مار دھاڑ کی کسر پوری کرنے کے لیے انھوں نے اپنی بنیادی گیم کو بالکل نہیں چھیڑا۔ ہر گیند جو ہوا میں تیرتی ہوئی باؤنڈری کے پار جا گری، وہ گویا ان پریس کانفرنسز کے سوالوں کا جواب تھی۔

ڈیوڈ وِلی دوڑتے ہوئے آئے، بابر اعظم اپنے خاص روایتی انداز میں قدموں کو حرکت لائے، ایک ٹانگ پر جُھکے اور سیدھے بلے سے گیند کو آف سائیڈ پر موجود فیلڈرز کے جمگھٹے میں سے ایسی تام مہارت سے باؤنڈری پار رسید کیا کہ پل بھر کو گماں گزرا، گیند انگلش فیلڈرز نہیں بلکہ ان کے ناقدین کے حصار کو توڑتی ہوئی باؤنڈری پار پہنچی ہے۔

ہر دن بہترین نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کل کلاں پھر پاکستان کوئی میچ ہارے اور ان دونوں اوپنرز کے سٹرائیک ریٹ پھر قومی بحث کو ایک نئی جہت دینے لگیں مگر ابھی کے لیے، بابر اعظم نے اس ساری تنقید کو اٹھا کر باؤنڈری پار پھینک دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More