مفتی مینک: سوشل میڈیا پر معروف عالم دین نے پاکستان کا دورہ کیوں کیا؟

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

سوشل میڈیا سے عالمی شہرت پانے والے ڈاکٹر مفتی اسماعیل مینک پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے بعد واپس روانہ ہو چکے ہیں۔

18 سے 21 ستمبر تک ہونے والے اس دورے میں انھوں نے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی امداد کی اپیل کرتے نظر آئے۔

مفتی مینک کے دورے کی زیادہ میڈیا کوریج نہیں ہوئی کیونکہ اکثر افراد کو اُن کی پاکستان آمد کا علم ہی بعد میں ہوا۔

مفتی ڈاکٹر اسماعیل مینک کون ہیں؟

مفتی مینک کے والدین کا تعلق انڈیا کے علاقے گجرات سے ہے مگر وہ خود زمبابوے کے شہر ہرارے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ زمبابوے کے مفتی اعظم بھی ہیں۔

وہ صرف اسلامی ممالک ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی شہرت رکھتے ہیں۔

سماجی اور مذہبی موضوعات پر پروگرام کرنے والے صحافی اور تجزیہ کار سبوخ سید کے مطابق مفتی مینک نے مذہبی تعلیم اپنے والد مولانا موسیٰ سے حاصل کی جبکہ وہ زمبابوے کے دینی اداروں کے علاوہ انڈیا کے ایک مدرسے بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

سبوخ سید کے مطابق مفتی ڈاکٹر اسماعیل مینک کتابوں کے مصنف بھی ہیں مگر ان کی کتابوں کو زیادہ مذہبی نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ کتابیں زیادہ تک اصلاحی ہیں جن میں لوگوں کو اچھائی کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ انھیں ان کی خدمات پر مختلف بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔

مذہب کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے کراچی کے صحافی عظمت خان کے مطابق زمبابوے میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا دو فیصد بھی نہیں تو ایسے میں مفتی مینک کی وجہ شہرت زمبابوے کے مفتی اعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ پوری دنیا اور اسلامی دنیا میں اصلاحی اور فلاحی کام ہیں۔

عظمت خان کا کہنا تھا کہ مفتی مینک اسلامی دنیا میں ایک اصلاح پسند اور اعتدال پسند عالم دین سمجھے جاتے ہیں جن کی زیادہ توجہ فلاح کے کاموں کی طرف ہے۔

https://www.instagram.com/p/Cis9CKQK6zZ/

ان کے مطابق مفتی مینک کو اصل شہرت سوشل میڈیا سے ملی ہے جہاں پر ان کی مثبت اور موٹیویشنل باتوں کی ویڈیوز پوسٹ کی جاتی ہیں اور انھیں سراہنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے فالوررز کی تعداد بھی کئی مذہبی رہنماؤں سے زیادہ ہے۔

مفتی مینک کی پاکستان میں سرگرمیاں

پاکستان میں اپنی شہرت کے باوجود اس دورے پر نہ وہ عوامی مقامات پر کسی سے ملاقاتیں کرتے نظر آئے اور نہ ہی میڈیا کے نمائندوں سے کوئی بات چیت کی۔

ان کا پاکستان آنے کا مقصد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا اور سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنا تھا۔

جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی کے مہتمم مفتی نعمان نعیم کے مطابق انھیں مفتی مینک کے دورے سے قبل ان کے پاکستان آنے کی اطلاع فراہم کی گئی تھی جس کے بعد ’ہم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مفتی مینک نے جامعہ بنوریہ کا بھی دورہ کیا تھا۔

مفتی نعمان نعیم کا کہنا ہے کہ مفتی مینک کے آنے کا مقصد سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنا تھا۔ ’وہ سندھ کے علاقے میرپور خاص گئے، وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سیلاب متاثرہ افراد کی نہ صرف مدد کی بلکہ عالمی سطح پر بھی امداد کی اپیل کی۔‘

ان کے اس دورے کا اہتمام برطانیہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’عبداللہ ایڈ یو کے‘نے کیا تھا۔ ’عبداللہ ایڈ یو کے، کے رضا کار سیلاب زدہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران مفتی ڈاکٹر اسماعیل مینک نے اپنی آنکھوں سے خود صورتحال کا جائزہ لیا۔‘

’یہاں پہنچنے کے لیے کشتی کا استعمال کرنا پڑا‘

مفتی مینک نے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کی دوران مختلف تصاویر اور ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے جاری کردہ پیغام میں انھوں نے پوری دنیا میں اپنے چاہنے والوں سے کہا ہے کہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ناقابل بیان صورتحال ہے۔ ’تباہی ہوئی ہے۔ پاکستان کو ہماری ضرورت ہے۔ ایک خیمہ عطیہ کریں۔ ایک خاندان کی مدد کریں۔ ایک خیمے کے لیے سو ڈالر۔‘

مفتی مینک نے اس موقع پر عبداللہ ایڈ یو کے کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ’سیلاب زدہ علاقوں میں مدد کی کئی برسوں تک ضرورت پڑتی رہے گی۔‘

مفتی مینک نے اپنے دورے کے حوالے سے کوئی بھی دعوت وغیرہ قبول نہ کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’میرے اس دورے کا ایک ہی مقصد تھا، سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ امدادی اشیا کی تقسیم اور تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی حالت زار کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا۔‘

مفتی ڈاکٹر اسماعیل مینک کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات پر معذرت کرتا ہوں کہ میں اس کے علاوہ کوئی اور دعوت وغیرہ قبول نہیں کر سکا۔ مجھے پاکستان کے تمام لوگوں سے محبت ہے۔‘

انھوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کو پاکستان میں سیلاب کے تباہ کن نتائج کا عنوان دیا ہے۔

ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں بعض علاقے جزیرے بن گئے ہیں اور ’ہمیں یہاں پہنچنے کے لیے کشتی استعمال کرنا پڑی۔‘

https://www.facebook.com/abdullahaiduk/videos/619121346331658/

’70 فیصد سندھ متاثر ہوا ہے‘

مفتی ڈاکٹر اسماعیل مینک نے متاثرین کی بات چیت پر انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں متاثرین بتا رہے ہیں کہ ان کے گھر بار ختم ہو چکے ہیں۔

اس ویڈیو کے اختتام پر وہ خود بھی کہتے ہیں کہ ’میں اس وقت پاکستان کے صوبہ سندھ، جو کہ 70 فیصد متاثرہ ہے، کے علاقے جھڈو میں موجود ہوں جو میر پور خاص سے زیادہ دور نہیں ہے۔‘

’بہت سے گھر زیر آب ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بہت زیادہ امدادی سامان کی ضرورت ہے۔ اس بات کی اہمیت نہیں ہے کہ کتنی امداد کی جا چکی ہے۔ اہم یہ ہے کہ ان سیلاب زدگان کو مزید امداد کی ضرورت ہے۔ آپ لوگوں نے ان کی مدد کرنی ہے۔‘

وہ اس ویڈیو میں کہتے ہیں کہ ’کئی بہنوں نے کہا ہے کہ ان کے پاس خیمے نہیں ہیں۔ ان کو واٹر پروف ٹینٹ دیا گیا ہے جس سے وہ بہت خوش ہیں۔ ہم نے کچھ بنیادی ضرورت کا سامان دیا ہے اور ان کو مزید ٹینٹ وغیرہ بھی فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

https://www.instagram.com/p/Cisj9t3Jkv9/

’اس گرمی میں جہاں پر ابھی بھی بارش ہو رہی ہے، ان لوگوں کا سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھ پر اعتماد کریں، ان لوگوں کو بہت کچھ درکار ہے۔ ان کے لیے آگے بڑھیں۔‘

جہاں انھوں نے اپنے دورے کو سیلاب متاثرین کے لیے وقف کیا وہیں سفر کے دوران وہ کچھ ہلکی پھلکی ویڈیوز بھی اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے رہے۔

ایک پوسٹ میں انھوں نے ایک ڈھابے کی چائے کو ’نمبر ون‘ قرار دیا۔ جبکہ ایک دوسرے موقع پر انھوں نے کراچی میں ایک جگہ ماسک پہن کر ویڈیو شیئر کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ ’پاکستان میں انڈر کوور رہے ہیں، اچھا محسوس ہو رہا ہے کیونکہ اللہ کا شکر ہے کوئی پہچان نہیں سکا۔‘

https://www.instagram.com/p/Cis1vSQtJZs/

سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

مفتی اسماعیل مینک کے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے سوشل میڈیا مداحوں نے سراہا ہے۔

مفتی مینک کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جہاں چند سوشل میڈیا صارفین نے سیلاب زدگان کو امداد پہنچانے پر ان کی تعریف کی وہیں بعض صارفین نے ان کی جانب سے ایک واٹر پروف خیمہ عطیہ کرنے کے لیے امدادی رقم کے متعلق بھی پوچھا۔

مارو نامی صارف نے لکھا کہ ’تمام ہیروز چوغا نہیں اوڑھتے‘۔ ایک اور صارف نے ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لوگوں کو احساس نہیں ہے کہ پاکستان کی تعیمر نو میں برسوں لگ جائیں گے اور یہ یہاں کے لوگوں کے لیے بہت دردناک ہے۔‘

انسٹاگرام پر ان کی پوسٹ دیکھ کر چند صارفین نے انھیں کراچی اور اسلام آباد میں لیکچرز دینے کا مشورہ دیا جبکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چند صارفین نے ان سے درخواست کی کہ وہ اندرون بلوچستان کے علاقوں کا دورہ کریں جہاں میڈیا بھی نہیں گیا اور وہاں سیلاب متاثرین کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More