جب چرچل نے کہا 'گاندھی ابھی تک مرا کیوں نہیں'

بی بی سی اردو  |  Oct 02, 2022

سنہ1931 میں جب مہاتما گاندھی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو بادشاہ جارج پنجم نے انھیں بکنگھم پیلس میں چائے پر مدعو کیا۔ برطانوی عوام یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اس رسمی موقع پر بھی گاندھی دھوتی اور چپل میں محل پہنچے۔

بعد میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس لباس میں بادشاہ کے سامنے جانا مناسب تھا تو گاندھی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’بادشاہ نے جتنے کپڑے پہن رکھے تھے وہ ہم دونوں کے لیے کافی تھے۔‘

اس سے چھ ماہ قبل بھی جب گاندھی وائسرائے لارڈ ارون سے ملنے گورنمنٹ ہاؤس گئے تھے تو انھوں نے وہی لباس پہن رکھے تھے۔

کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ونسٹن چرچلنے ان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتنی خطرناک اور گھناؤنی بات ہے کہ ولایت سے بیرسٹری پاس کرنے والا اب ایک غدار فقیر بن کر نیم برہنہ وائسرائے کے محل کی سیڑھیوں پر دندناتا چلا جا رہا ہے اور برطانوی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے باوجود وہ وہاں جا کر شہنشاہ کے نمائندے کے ساتھ برابری سے بیٹھ کر سے سمجھوتے کی بات چیت کر رہا ہے۔'

بادشاہ سے ملاقات کے ایک ماہ کے اندر گاندھی گرفتار کر لیے گئے

جب گاندھی گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد لندن سے بمبئی پہنچے تو ہزاروں لوگ ان کے استقبال کے لیے بندرگاہ پر کھڑے تھے۔

ڈومینک لاپیئر اور لیری کولنز اپنی کتاب ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’گاندھی نے اپنے استقبال کے لیے کھڑے لوگوں سے کہا، میں خالی ہاتھ واپس آیا ہوں۔ ہندوستان کو پھر سے سول نافرمانی کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ چائے پارٹی میں شہنشاہ کا مہمان رہنے والا شخص دوبارہ شاہی مہمان بنایا گیا، لیکن اس بار پونے کی یروڈا جیل میں۔‘

اگلے تین سالوں تک گاندھی کا جیل میں آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف لندن میں چرچل نے گرجتے رہے کہ ’گاندھی اور ہر وہ چیز جس کے لیے وہ لڑ رہے ہیں، اسے کچل دیا جائے۔‘

جب چرچل پر ہندوستان کو آزاد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو انھوں نے وہ مشہور جملہ کہا کہ 'شہنشاہ نے مجھے ہندوستان میں برطانوی سلطنت کو تحلیل کرنے کے لیے تو وزیراعظم نہیں بنایا ہے۔‘

سنہ 1942 میں جب اسٹیفورڈ کرپس ان کے نمائندے کے طور پر دہلی پہنچے تو گاندھی نے ان کی تجویز پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’یہ منصوبہ کسی ڈوبتے ہوئے بینک کے نام پر دیا جانے والا پوسٹ ڈیٹڈ چیک ہے۔‘

انھوں نے کرپس سے کہا: ’اگر آپ کے پاس کوئی اور تجویز نہیں ہے، تو اگلے جہاز سے آپ اپنے ملک واپس چلے جائیں۔‘

آٹھ اگست سنہ 1942 کو کانگریس کے کنونشن میں گاندھی نے جو الفاظ کہے وہ اتنے غصے میں تھے کہ ان کے منہ سے نکلتے ہوئے عجیب سے لگ رہے تھے۔ گاندھی نے کہا: ’مجھے فورای آزادی چاہیے۔ آج ہی رات کو۔ اگر ممکن ہو تو صبح ہونے سے پہلے۔‘

صبح ہونے سے پہلےآزادی تو نہیں ملی البتہ گاندھی کو گرفتار ضرور کر لیا گیا۔

گاندھی کو پونے کے آغا خان محل میں رکھا گیا

اس بار انگریزوں نے گاندھی کو جیل میں نہیں رکھا بلکہ انھیں پونہ کے آغا خان محل میں رکھا۔ آغا خان محل پونے سے پانچ میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ دو منزلہ عمارت تھی جس میں نو بڑے بیڈ روم تھے۔ مرکزی عمارت کے ارد گرد 70 ایکڑ کا صحن تھا جس میں 12 باغبان کام کرتے تھے۔

گاندھی کی گرفتاری کے بعد اردشیر ایدولجی کیٹلی کو محل کی جیل کا انچارج بنایا گیا۔

کیٹلی سنہ 1932 میں یروڈا جیل کے بھی جیلر تھے جب گاندھی کو وہاں رکھا گیا تھا۔ کیٹلی کی مدد کے لیے 76 پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔

اسی دوران برسوں سے گاندھی کے سیکریٹری کی خدمات انجام دینے والے مہادیو دیسائی اچانک جیل میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت پر گاندھی کی اہلیہ کستوربا گاندھی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ان کی موت سے باپو کا دایاں اور بایاں ہاتھ چلا گیا۔‘

گاندھی نے 21 دن تک بھوکے رہنے کا فیصلہ کیا

گاندھی اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں سے سخت پریشان تھے جس میں بعض سرکاری بیانات میں کہا گیا تھا کہ وہ انگریزوں کے دشمن ممالک سے ملے ہوئے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ گاندھی کی گرفتاری کے بعد رونما ہونے والے تشدد کے لیے وہی خود ذمہ دار ہیں۔

ان الزامات سے غمزدہ ہو کر گاندھی نے وائسرائے لِنلِتھگو کو خط لکھا کہ وہ 9 فروری سے 21 دن کا اپواس (ایک قسم کا روزہ) رکھنا چاہتے ہیں۔

لِنلِتھگو نے جواب میں لکھا کہ ’میں سیاسی وجوہات کی بنا پر بھوکے رہنے کو سیاسی بلیک میلنگ کے طور پر دیکھتا ہوں جسے اخلاقی وجوہات کی بنا پر کبھی بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

اس سے پہلے جب بھی گاندھی نے بھوک ہڑتال کی تھی انھیں فوراً جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ لیکن اس بار لِنلِتھگو اور چرچل کے ارادے مختلف تھے۔

چرچل نے دہلی کو نوٹس بھیجا کہ ’اگر گاندھی بھوک سے مرنا چاہتے ہیں تو انھیں ایسا کرنے کی پوری آزادی ہے۔‘

آرتھر ہرمن اپنی کتاب ’گاندھی اینڈ چرچل: دی ایپک رائولری دیٹ ڈسٹرائڈ دی امپائر اینڈ فورجڈ آور ایج‘ میں لکھتے ہیں: ’گاندھی کی بھوک ہڑتال سے دو دن پہلے حکومت نے انھیں جیل سے رہا ہونے کی پیشکش کی تھی۔ وائسرائے نے ان سے کہا تھا کہ وہ جس کے ساتھ جہاں بھی چاہیں جا سکتے ہیں۔ لیکن انھیں اپواس ختم ہونے کے بعد آغا خان محل واپس جانا پڑے گا۔ گاندھی نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔‘

گاندھی کا اپواس چرچل کی نظر میں ایک ڈرامہ تھا

گاندھی نے اپنی بھوک ہڑتال 9 فروری کے بجائے 10 فروری سے شروع کی۔ میرا بین لکھتی ہیں: ’تیسرے دن گاندھی نے الٹیاں شروع کر دیں۔ پانچویں دن تک وہ بہت کمزور اور تھکے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ انھوں نے گیتا پڑھنا بھی چھوڑ دیا۔‘

وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے کچھ ہندوستانی اراکین نے گاندھی کو رہا کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا لیکن لِنلِتھگو کسی طرح راضی نہ ہوئے۔

گاندھی کی بھوک ہڑتال کے دوسرے ہفتے میں، ایم ایس اینی، سر ہومی مودی اور نلنی رنجن سرکار نے احتجاجاً اپنے ایگزیکٹو کونسل کے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

چرچل اس وقت اتحادیوں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے کاسا بلانکا میں تھے۔ انھیں گاندھی کی ہر سرگرمی سے آگاہ رکھا جاتا تھا۔

آرتھر ہرمن لکھتے ہیں: ’چرچل کو یقین تھا کہ گاندھی کی بھوک ہڑتال ایک سڑک چھاپ چال تھی۔ ہندوستانی شاید ان کی خوبیوں کی وجہ سے ان کا احترام کرتے ہوں گے، لیکن چرچل کی نظر میں وہ صرف روحانی نیم حکیم تھے۔ لیکن جنوبی افریقہ کے صدر فیلڈ مارشل جان سمٹس نے انھیں گاندھی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ چرچل سمٹس کا بہت احترام کرتے تھے۔ان کے خیالات بہت ملتے جلتے تھے۔لیکن گاندھی کے بارے میں ان کی رائے مختلف تھی۔اسمٹس کا گاندھی سے پہلے واسطہ پڑ چکا تھا۔ انھوں نے چرچل کو صاف کہہ دیا تھا کہ گاندھی کو ہلکا نہ لینا۔ لیکن چرچل نے ان کی وارننگ کا مذاق اڑایا۔‘

گاندھی کی حالت بگڑنے لگی

19 فروری کو سوشیلا نیّرنے اپنی ڈائری میں لکھا: ’کل اپواس کا آٹھواں دن گاندھی کے لیے بہت برا تھا۔ دن بھر ان کے سر میں شدید درد تھا۔ انھیں لگا جیسے ان کا سر پھٹ جائے گا۔ انھوں نے بولنا، سوالوں کے جواب دینا۔ دیکھنا سننا سب بند کر دیا تھا۔‘

اگلے دن گاندھی نے دوپہر تک اپنے اردگرد کے ماحول میں دلچسپی لی، لیکن اس کے بعد ان کا سر درد، کان میں درد کی تکلیف لوٹ آئی، وہ آنکھیں بند کیے بستر پر لیٹے رہے۔ ان کی آواز سرگوشی میں بدل گئی۔ اب ان میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ بستر پر مڑتے یا ٹانگیں پھیلاتے۔

20 فروری کو جب بمبئی پریذیڈنسی کے سرجن جنرل ان سے ملنے آئے تو انھوں نے کہا کہ گاندھی کا خاتمہ قریب ہے۔

21 فروری کو دہلی کے اہم لوگوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ انھوں نے وائسرائے سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اگر گاندھی جی زندہ رہے تو امن اور خیر سگالی کے فروغ کی راہ ہموار ہو جائے گی، لیکن برطانوی قیدی کے طور پر ان کی موت برطانوی حکومت کے تئیں لوگوں کی تلخیوں میں مزید اضافہ کرے گی۔‘

یہ تجویز برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کو ٹیلی گرام کے ذریعے بھیجی گئی۔

چرچل نے فوراً جواب دیتے ہوئے لکھا: ’جن وجوہات سے گاندھی اور دیگر کانگریسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ انھیں بتا دی گئی ہے اور وہ اسے سمجھ چکے ہیں۔ ان حالات کے ذمہ دار مسٹر گاندھی خود ہیں۔‘

پانی کے ساتھ گلوکوز لینے کا شبہ

13 فروری کو چرچل نے لِنلِتھگو کو ایک خط لکھا: ’میں نے سنا ہے کہ جب گاندھی نے اپواس کا ڈرامہ کیا تو اُس نے پانی کے ساتھ گلوکوز پیا۔ کیا آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں؟‘

تحقیقات کرنے کے بعد لِنلِتھگو نے جواب دیا کہ ’یہ بات درست نہیں ہے۔‘ یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ تقریباً اسی وقت جب گاندھی کی طبیعت خراب ہو رہی تھی چرچل بھی شدید بیمار ہو گئے۔

الجزائر سے واپسی کے ایک ہفتے بعد وہ شدید سردی کی لپیٹ میں آ گئے۔ 16 فروری کو انھیں بہت تیز بخار ہو گیا۔ اگلے دن جب ان کا ایکسرے لیا گیا تو پتہ چلا کہ ان کے پھیپھڑے میں دھبہ ہے اور انھیں نمونیا ہو گيا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گاندھی کو مذہب تبدیل کرنے سے کس نے روکا تھا؟

گاندھی کے سیکس کے بارے میں خیالات کیا تھے؟

چپل پر گاندھی کی تصویر،ایمازون مشکل میں

اس زمانے میں 70 سال کی عمر والے شخص کے لیے نمونیا بہت سنگین بیماری تھی۔ 19 فروری سے 25 فروری تک چرچل کام کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔

لیکن جب واشنگٹن میں برطانوی سفیر لارڈ ہیلی فیکس نے انھیں گاندھی کے بارے میں صدر روزویلٹ کی تشویش کے بارے میں بتایا، تو انھوں نے روزویلٹ کو ایک ٹیلی گرام بھیجا، جس میں کہا گیا: ’برطانوی حکومت کسی بھی صورت میں گاندھی کے خلاف کارروائی کا راستہ تبدیل نہیں کرے گی۔‘

بیماری کی حالت میں بھی چرچل کی نظر گاندھی پر تھی

اپواس کے 13ویں دن یعنی 23 فروری کو گاندھی کے گردے جواب دے گئے۔

سوشیلا نیر نے اس دن کی اپنی ڈائری میں لکھا: ’پانی کو دیکھتے ہی گاندھی کو متلی آنے لگی۔ ان کی نبض وقفے وقفے سے چل رہی ہے اور وہ تقریباً بیہوش ہو چکے ہیں۔‘

دوسری طرف چرچل بیماری کی حالت میں بھی گاندھی کے اپواس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وقتاً فوقتاً ان کے ذہن میں ایک سوال اٹھ رہا تھا کہ گاندھی کی موت کب ہو گی؟

25 فروری کو انھوں نے بادشاہ کو ایک لمبا خط لکھا جس کے آخر میں انھوں نے لکھا کہ ’پرانا منافق گاندھی ابھی تک ٹکا ہوا ہے، شاید اس سے کہیں زیادہ جو مجھے بتایا گیا تھا۔ مجھے تو شک ہے کہ ان کا اپواس حقیقی تھا؟‘

24 فروری کو چرچل کا بخار اتر گیا۔ اسی دن انھوں نے امریکی رہنما ہیری ہاپکنز کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ ’میں یقیناً بہتر محسوس کر رہا ہوں اور گاندھی بھی۔‘

مارٹن گلبرٹ لکھتے ہیں: ’انھوں نے لِنلِتھگو کو بھی لکھا کہ 'بلیٹینز سے لگتا ہے کہ گاندھی زندہ بچ گئے ہوں گے۔ یقیناً کسی ہندو ڈاکٹر نے ان کے پانی میں گلوکوز یا اس جیسی کوئی چیز ملا دی ہو گی۔‘

گاندھی کے اپواس ختم کرنے پر چرچل خوش نہیں

26 فروری کو چرچل نے فیلڈ مارشل سمٹس کو لکھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ گاندھی کا ابھی مرنے کا کوئی ارادہ ہے۔‘

تب تک گاندھی کا وزن 20 پاؤنڈ کم ہو چکا تھا۔ لیکن اگلے دن گاندھی تھوڑا سکون سے سوئے۔

سوشیلا نے خوشی سے اپنی ڈائری میں لکھا: ’گاندھی صبح سے تھوڑا بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی آواز تھوڑی بلند ہوئی ہے۔ لگتا ہے کہ انھوں نے آرام کیا ہے اور وہ کچھ خوش دکھائی دے رہے ہیں۔‘

پورے 21 دنوں کے بعد گاندھی نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔

3 مارچ کو کستوربا نے انھیں ایک گلاس نارنگی کا جوس پانی میں ملا کر دیا۔ 21 دن تک صرف نمکین پانی اور ایک دو قطرے لیموں یا موسمی کا رس پینے کے بعد بھی گاندھی کے حوصلے نہیں ٹوٹے۔

انھیں وہ اذیتیں برداشت کرنی پڑیں جو انھوں نے خود پر مسلط کی تھیں۔ چرچل اس خبر سے بالکل خوش نہیں تھے۔

انھوں نے وائسرائے لِنلِتھگو کو ٹیلی گرام کیا: ’ایسا لگتا ہے کہ بوڑھا شریر اپنے نام نہاد اپواس کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ بہتر طور پر سامنے آئے گا۔‘

بنگال میں خشک سالی سے لاکھوں لوگوں کی موت

ستم ظریفی یہ تھی کہ جب گاندھی رضاکارانہ طور پر اپواس رکھ کر موت سے کھیل رہے تھے، اسی وقت بنگال میں لاکھوں لوگ خشک سالی سے مر رہے تھے۔

اکتوبر سنہ 1942 کے مہینے میں مشرقی بنگال کے ساحلی علاقے میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آیا جس نے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ساحل کے اندر 40 کلومیٹر تک دھان کی فصل کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

کرسٹوفر بیلی اور ٹم ہارپر اپنی کتاب ’فارگوٹن آرمیز فال آف برٹش ایشیا 1941-45‘ میں لکھتے ہیں: ’اکتوبر کے وسط تک کلکتہ میں اموات کی شرح ماہانہ 2000 تک پہنچ گئی تھی۔ صورتحال یہ تھی جب برطانوی اور امریکی فوجی سینما ہال سے فلم دیکھ کر نکلتے تھے انھیں سڑک پر بھوک سے مرنے والے لوگوں کی لاشیں نظر آتی تھیں جنہیں گدھ اور کوے کھا رہے ہوتے تھے۔‘

لیکن چرچل پر اس کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آیا۔

بنگال کی خشک سالی کو نظر انداز کیا گیا

جب وائسرائے ویول نے مشرقی ہندوستان کے قحط زدہ اضلاع میں مزید اناج بھیجنے کا مطالبہ کیا تو چرچل نے جان بوجھ کر اناج کو بھوک سے مرنے والے بنگال سے ہٹا کر جنگ عظیم (دوم) میں لڑنے والے برطانوی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان کا اپنا اضافی اناج سیلون (آج کا سری لنکا) بھیجا جاتا تھا۔ آسٹریلیا سے گندم سے لدے بحری جہاز ہندوستانی بندرگاہوں پر نھیں رکے اور انھیں مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا۔

امریکہ اور کینیڈا نے ہندوستان کو خوراک کی امداد بھیجنے کی پیشکش کی لیکن وہ بھی مسترد کر دی گئی۔

چرچل نے قحط کے بارے میں وائسرائے کے فوری ٹیلیگرام کا جواب دینے کی پرواہ نہیں کی۔

جب حکام نے ان کی توجہ ان کے فیصلے سے ہونے والی اموات کی طرف مبذول کروائی تو انھوں نے غصے سے ایک ٹیلی گرام بھیجا جس میں پوچھا گیا کہ ’گاندھی ابھی تک کیوں نہیں مرا؟‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More