بلوچستان: ضلع ہرنائی سے اغوا ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار کے بدلے کالعدم بی ایل اے کی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش

بی بی سی اردو  |  Oct 07, 2022

Getty Imagesفائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے 25 ستمبر کو اغوا ہونے والے سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہوئی ہے تاہم ان دونوں افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے ان کی رہائی کے بدلے میں قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی ہے۔

بیان کے مطابق تنظیم کے سینیئر کمانڈ کونسل نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کی جانب سے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرنے کے علاوہ اغوا کیے جانے والے دونوں افراد کی تصاویر بھی جاری کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ہی افراد کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے۔

تاہم سرکاری حکام صرف ایک سکیورٹی اہلکار کے اغوا کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ دوسرے کی شناخت کان میں کام کرنے والے مزدور کے طور پر کی گئی ہے۔

تاحال کالعدم تنظیم کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش پر سرکاری حکام کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ہرنائی میں اغوا کا واقعہ کہاں پیش آیا تھا؟

ہرنائی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار سمیت دونوں افراد کو شاہرگ کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں بعض لوگوں کو گاڑیوں سے اتارا اور ان میں سے دو افراد کو شناخت کے بعد اپنے ساتھ پہاڑوں کی جانب لے گئے۔ ان افراد میں سکیورٹی فورسز کا ایک نائب صوبیدار اور کوئلے کی کان میں کام کرنے والا ایک مزدور شامل ہے۔

ان افراد کے اغوا کے حوالے سے کمشنر سبی ڈویژن بالاچ عزیز سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے سلسلے میں کراچی میں ہیں اس لیے وہ اس وقت اس سلسلے میں بات نہیں کر سکتے۔

تاہم ہرنائی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے دونوں افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تاحال ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی ہے۔

بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے اغوا کے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن کیا تھا۔

اس سرچ آپریشن کے موقع پر فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی خوست کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں دونوں پائلٹ سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق ہیلی کاپٹر کسی تکنیکی نقص کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

تاہم کوئٹہ میں سکیورٹی حکام نے گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کا حصہ ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے جو بیان جاری کیا تھا اس کے مطابق گر کر تباہ ہونے والا ہیلی کاپٹر اس علاقے میں فلائنگ مشن پر تھا۔

کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے مغویوں کی رہائی کے بدلے قیدیوں کے تبادلے کی اعلانیہ پیش کش غالباً اپنی نوعیت کی پہلی پیش کش ہے۔

کالعدم تنظیم کی پیشکش پر سرکاری حکام کا رد عمل معلوم کرنے کے لیے بلوچستان کے مشیر داخلہ اور سکیورٹی حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کال وصول نہیں کی گئی۔

Getty Imagesفائل فوٹوہرنائی کہاں واقع ہے؟

ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ ضلع زیادہ تر سنگلاخ پہاڑی علاقوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ ہرنائی سیر و سیاحت کے لیے معروف بلوچستان کے ضلع زیارت سے متصل ہے جبکہ اس کی سرحدیں ضلع کچھی کے علاقے بولان، سبی اور کوہلو سے بھی لگتی ہیں۔

ہرنائی کوئلے کے ذخائر اور اپنے مخصوص موسم کی وجہ سے سبزیوں کے لیے زیادہ مشہور ہے۔

اگرچہ یہ ضلع زیارت کے ساتھ متصل ہے لیکن اس کا موسم زیارت جیسا ٹھنڈا نہیں۔ اس ضلع میں زرد آلو سمیت متعدد پکنک پوائنٹس ہیں اس لیے کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد پکنک منانے کے لیے ہرنائی کا بھی رخ کرتی ہے۔

اگرچہ ہرنائی کی غالب آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے لیکن اس کے مختلف علاقوں میں بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی آباد ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجرز سمیت چھ اہلکار ہلاک

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز سمیت چھ فوجیوں کی ہلاکت: ہیلی کاپٹر کا ملبہ کہاں سے اور کیسے ملا؟

پاکستانی فوج دوران سروس ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ کو کیا مراعات دیتی ہے؟

جنرل بپن راوت اور اہلیہ کی ہلاکت: جائے حادثہ کے قریب موجود عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع ہرنائی کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بد امنی کے دیگر واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔

ہرنائی سے سبی تک ٹرین سروس بھی تھی لیکن سنہ 2000 کے عسکریت پسندوں نے ریلوے لائن کے بعض پلوں کو اڑا دیا تھا جس کے باعث انگریزوں کے دور سے جاری یہ ٹرین سروس بند ہو گئی۔

اگرچہ نواز شریف کی تیسری حکومت میں پلوں کی تعمیر کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی لیکن ٹرین سروس تاحال بحال نہیں ہوئی۔

ہرنائی کے بعض علاقوں کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے بہت زیادہ متائثر ہیں اس لیے کچھ عرصہ قبل ہرنائی کے بعض علاقوں میں فوج کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔

ہرنائی میں سکیورٹی فورسز پرحملوں اور بدامنی کے بعض دیگر واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن قبول کرتی رہی ہے۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے اقدامات کے باعث اب ہرنائی میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More