حکمران اتحاد کا اجلاس، آرمی چیف کی تعیناتی پر وزیراعظم کی حمایت کا اظہار

اردو نیوز  |  Nov 24, 2022

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے آرمی چیف کی تعیناتی پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔

بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ آئینی تقرریوں کے حوالے سے ایک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس منعقد ہوا۔‘

’اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں نے آئینی تعیناتیوں کے حوالے سے فیصلے کا اختیار وزیراعظم شہباز شریف کو سونپ دیا۔‘

اتحادی جماعتوں نے کہا کہ ’وزیراعظم آپ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

سابق صدر اور شریک چیئرمین پی پی پی آصف علی زرداری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’آپ وزیر اعظم ہیں اور آئین نے یہ اختیار اور استحقاق آپ کو سونپا ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے مکمل اعتماد کا اظہار کرنے پر اتحادی جماعتوں اور ان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اتحادی جماعتوں کے اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا جس میں اہم عہدوں پر ہونے والی تقرریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ ہیں۔ آصف زرداری نے بھی مکمل یقین دہانی کروائی ہے۔ وزیراعظم نے مشاورت کر کے نئی روایت قائم کی ہے۔‘

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ’آرمی چیف نے آج جو اچھی باتیں کی ہیں اس پر بات ہونی چاہیے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہر مشکل گھڑی میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں‘ (فوٹو: پی ایم آفس)’وزیراعظم کو یہ حق حاصل ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ عسکری تقرریوں کے بارے میں مشاورت کرنی ہے۔ وزیراعظم کو آئینی طور پر اختیار تھا وہ اپنا فیصلہ کرتے مگر انہوں نے مشاورت کر کے اچھا فیصلہ کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی یہی کہا کہ آپ کو مکمل اختیار ہے۔ تمام اتحادیوں نے وزیراعظم کو اختیار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ تمام جماعتوں نے وزیراعظم کی تائید کی ہے کہ جو فیصلہ کریں گے وہی قابل قبول ہوگا۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر مشکل گھڑی میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More