قرضوں کی واپسی کیلئےملکی دولت میں اضافہ ناگزیر ہے،وزیراعظم

روزنامہ اوصاف  |  Feb 26, 2021

لاہور(روزنامہ اوصاف)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ دس سالہ دور سیاہ ترین دور تھا ہماری درآمدات اور برآمدات میں بہت زیادہ خسارہ تھا جس کے باعث ہمیں قرضے لینے پڑے،اب ان قرضوں کی واپسی کیلئے ملکی دولت میں اضافہ ناگزیر ہے ، پاکستان کے قطر کے ساتھ ایل این جی کے نئے معاہدے سے ہر سال ملک کو 30 کروڑ ڈالر اور آئندہ دس سالوں میں 3 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں گرین بزنس ڈسٹرکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے میں خوشی ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر مشکل وقت آتا ہے تو اس سے سوچنے کے لیے پرانی سوچ سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دس سالوں میں جتنے قرضے چڑھے اور معاشی بد انتظامی ہوئی اس کی وجہ سے مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا تھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا،یہ ہمیں وراثت میں ملے تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اپنی آمدنی بڑھانی ہے اور اپنے خرچے کم کرنے ہیں، آمدنی نہیں بڑھی تو نہ ہم اپنے خرچے پورے کرسکتے ہیں اور نہ ہی قرضوں کی قسطیں ادا کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالہ دور سیاہ ترین دور تھا ہماری درٓمدات اور برآمدات میں بہت خسارہ تھا جس کے باعث ہمیں قرضے لینے پڑے،ملک پرجب مشکل وقت آتا ہے تو سب کچھ ایک طرف رکھ کر مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں ،پاکستان کی دولت کو بڑھانا ہے تاکہ ہم قرضے واپس کرنے کی قوت حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ گرین بزنس ڈسٹرکٹ آمدنی کو بڑھانے میں مدد دے گا، اس کے پہلے مرحلے میں 1300 ارب روپے پیدا ہوں گے جس میں سے وفاقی حکومت کو ٹیکسز کی مد میں 250 ارب ملیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے دوسرے مرحلے میں والٹن ایئرپورٹ کو ڈی نوٹیفائی کیا جائے گا جس سے یہاں اونچی عمارتیں قائم ہوسکیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ گلبرگ، فیروز پور روڈ وغیرہ معاشی حب بن سکتے ہیں اور یہاں اونچی عمارتیں بن سکیں گی، لاہور پھیل رہا ہے اور اس کو روکنے کے لیے اونچائی کی جانب جانا پڑے گا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لاہور کے پھیلنے سے پانی، سیوریج کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More