قائم مقام امریکی نائب وزیر آبادکاری و مہاجرین کی پاکستان آمد

وائس آف امریکہ اردو  |  Feb 15, 2020

ویب ڈیسک — 

"پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے چالیس سال" مکمل ہونے پر اسلام آباد میں 17 اور 18 فروری کو ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گیتوریز سمیت اعلی ترین امریکی عہدےدار شرکت کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں جمعہ کو محکمہ خارجہ کے ایک اعلان میں کہا گیا کہ قائم مقام امریکی نائب وزیر برائے آبادکاری، مہاجرین اور تارکین وطن کیرول تھامپسن اوکونیل 14 سے 21 فروری تک پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں 40 سالہ قیام اور یکجہتی سے متعلق نئی پارٹنرشپ کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ میں امریکی نائب وزیر برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور نینسی ایزو جیکسن اور امریکی نمائندہ برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد بھی شرکت کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کیرول او کونل افغانستان میں تشدد اور مظالم کے نتیجے میں 40 سال قبل جان بچا کر پاکستان آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کریں گی، مہاجرین اور خطے میں بے گھر ہونے والے افراد کی امداد اور بحالی کے لئے امریکہ کے قاعدانہ کردار اور عزم کا اعادہ کریں گی اور ان بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کو اجاگر کریں گی جنھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضرورت مندمہاجرین کو امداد فراہم کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ غیر ملکی سرکاری عہدیداروں ، بین الاقوامی اور فلاحی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائیندوں سے ملاقات کریں گی۔

اجلاس کی مختلف نشستوں کے دوران دنیا بھر کی معروف شخصیات، عہدیدار، انسانی حقوق کے کارکن، اقوام متحدہ، امریکہ، اور افغانستان کے وفود افغان مہاجرین، ان کے مسائل اور ان کے قیام پر آنے والی لاگت سے متعلق موضوعات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس ایک ایسے اہم وقت پر ہو رہی ہے، جب افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیرا لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جبکہ ایسے مہاجرین کی تعداد ایک اعشاریہ ایک ملین یعنی گیارہ لاکھ ہے، جن کے پاس شناخت کی قانونی دستاویزات موجود نہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More