مقبوضہ کشمیر: حریت رہنما عبدالغنی ڈار شہید، کشمیریوں کی زمین ہتھیانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع

نوائے وقت  |  Feb 15, 2020

سرینگر، نئی دہلی(این این آئی، نوائے وقت رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے تحریک آزادی کشمیر کی معروف شخصیت عبد الغنی ڈار المعروف عبداللہ غزالی کو سرینگر کی ایک مسجد میں شہید کردیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے عبد الغنی ڈارکو سرینگر کے علاقے مائسمہ کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران حملہ کر کے شہید کیا۔ 78سالہ عبدالغنی ڈار کا تعلق ضلع بڈگام کے علاقے روسو بیروہ سے تھا اور مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ بھارتی پولیس نے جنوبی کشمیر کے اضلا ع اسلام آباد اور پلوامہ سے 4کشمیری نوجوانوںکو گرفتار کرلیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے عادل احمد ڈار، عاقب فیاض اور اعجاز احمد صوفی سمیت تین نوجوانوںکو ضلع اسلام آباد کے علاقوں آر ونی اور گنڈ سہال میں گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کئے گئے نوجوان مجاہد تنظیموں سے وابستہ تھے۔ جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بھیم سنگھ نے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے چند روز بعد بھارتی سپریم کورٹ میں پی ایس اے کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہاگیا کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیرمیں 400 سے زائد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔ عرضداشت میں سپریم کورٹ سے 1978میں نافذ کئے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ادھر مقبوضہ وادی میں لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھر روک دیا گیا۔ کشمیریوں نے نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ دوسری جانب بھارت نے کشمیریوں کی زمینیں اور دیگر املاک ہتھیانے کے اپنے گھنائونے منصوبے پر عملد رآمد کا آغاز کرتے ہوئے بھارتی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مقبوضہ علاقے میں چھ ہزار ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے اس سلسلے میں اراضی کی نشاندہی کا کام بھی مکمل کر لیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت رواں برس اپریل اور مئی میں مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی کاروباری کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہا ہے جس دوران سرمایہ کاروں کو مذکورہ اراضی دینے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ کانفرنس کے حوالے سے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ سرینگر سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار کی خبر کے مطابق قریباً 250کمپنیاں کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پرپبلک سیفٹی ایکٹ لگانے پر بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا جس میں 2 مارچ تک جواب طلب کرلیا۔ سابق وزیراعلیٰ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کو ان کی بہن نے چیلنج کیا تھا۔ دریں اثناء عبداللہ غزالی کی شہادت پر مرکزی جمعیت اہل حدیث نے یوم احتجاج منایا، ملک بھر کی مرکزی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ، علامہ ساجد میر اور حافظ عبدالکریم نے مذمت کی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے عبد الغنی ڈارکو سرینگر کے علاقے مائسمہ کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران حملہ کر کے شہید کیا۔علامہ ساجد میر نے کہا عبداللہ غزالی کا خون رنگ لائے گا،پاکستان حقیقت میں کشمیریوں کی محبت کا حق ادا نہیں کر سکا۔بہت جلد کشمیر میں آزادی کو سورج طلوع ہو گا۔ ترکی پاکستان کا قابل فخر دوست ملک ہے۔ حافظ عبدالکریم نے کہا عالمی برادری کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بھارتی ظلم وبربریت سے کشمیریوں کی تحریک آزادی رک نہیں سکتی۔ ابتسام الہی ظہیر نے کہا جمعہ کے روز مرکزی جمعیت اہل حدیث کی اپیل پر مساجد میں عبداللہ غزالی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں و کشمیر دانیال شھاب مدنی کی اپیل پر مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ اپر چھتر مظفرآباد میں ممتاز حریت پسند رہنما و جمعیت اہل حدیث مقبوضہ جموں و کشمیر کے مرکزی رہنما و سابق امیر اعلی تحریک المجاہدین جموں و کشمیر عبدالغنی ڈار المعروف عبداللہ غزالی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مظفرآباد میں بھی جمعتہ المبارک کی نماز کے بعد مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ اپر چھتر میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر شہید کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More