کیا ہینڈ سینیٹائزر واقعی آپ کو جلا سکتے ہیں؟

اردو نیوز  |  Mar 25, 2020

کورونا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے سینیٹائزرز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین اور ڈاکٹروں کی جانب سے بھی ہر گھنٹے بعد 20 سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے یا پھر سینیٹائزر سے اپنے ہاتھ صاف کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیںکورونا وائرس: احتیاطی تدابیر میں کتنا سچ؟Node ID: 461636سینیٹائزر ملنا مشکل مگر کیا یہ کورونا سے بچا سکتا ہے؟Node ID: 463891ورکر کو بطور سینیٹائزر پیش کرنے پر کارروائیNode ID: 464226

ایسے میں سوشل میڈیا پر سینیٹائزر کے حوالے سے مختلف افوائیں بھی گردش کر رہی ہیں جیسے کہ کہا جارہا ہے کہ سینیٹائزر لگا کر کچن میں چولہے کے پاس نہ جایا جائے کیونکہ اس سے آگ لگ سکتی ہے۔

سینیٹائزر میں الکوحل کی تعداد اگر 50 سے 70 فیصد ہو تو بھی ایک فیصد ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ آگ پکڑ سکے۔ اسلام آباد میں ہیلتھ سروسس اکیڈمی کے ایسو سی ایٹڈ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد خان نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’ہاتھ میں سینیٹائزر لگانے کے بعد اس میں موجود الکوحل 20 سے  30 سیکنڈ بعد ہوا میں اُڑ جاتا ہےجس کے بعد اس بات کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے کہ کسی کو آگ لگے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سینیٹائزر ہی چولہے کے پاس لگائے تو ممکن ہے کہ آگ لگ جائے۔ ڈاکٹر اعجاز احمد نے مزید بتایا کہ ہر طرح کے سینیٹائزر میں آئیسو پرو پائل الکوحل موجود ہوتا ہے جس کی مقدار کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

 ڈاکٹر اعجاز احمد نے بتایا کہ ہر طرح کے سینیٹائزر میں آئیسو پرو پائل الکوحل موجود ہوتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

چیف فائر آفیسر ظفر اقبال نے اُردو نیوز کو بتایا کہ انھوں نے آج تک ایسے کسی کیس کے بارے میں نہیں سنا نہ اس طرح کے کسی کیس کو ڈیل کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سینیٹائزرز بنانے کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ 'اگر سینیٹائزر دستیاب نہیں تو جو طریقہ سوشل میڈیا پر بتایا جا رہا ہے، وہ بھی کار آمد ہے جس میں گیلسرین، ایلوویرہ جل، ڈیٹول کو ملا کر سینیٹئزر تیار کیا جاتا ہے۔

کورونا وائرس کے مریضوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ عمر رسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے جس پر ڈاکٹر اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ  یہ وائرس کسی بھی عمر کے فرد کو لگ سکتا ہے تاہم اگر کوئی سگریٹ پیتا ہے یا جس کے پھیپھڑے کسی بھی وجہ سے مثاثر ہیں تو اُس میں اس وائرس کے اثرات نمایاں نظر آئیں گے۔

واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More