پاکستان کا”ڈارک ویب“ذاتی حساس معلومات کوڑیوں کےمول فروخت کرنےکامرکز

سماء نیوز  |  Jun 23, 2020

اگرآپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کا ڈیٹا نادرا کے پاس محفوظ ہے تو یہ آپ کی خام خیالی بھی ہوسکتی ہے۔

آپ کی حساس معلومات، جن میں آپ کی تاریخ پیدائش،خاندان کی معلومات اور انگلیوں کے نشانات کسی بھی واٹس ایپ گروپ پرچند پیسوں کےعوض فروخت کے لیے آپ کے علم میں لائے بغیرپیش کئے جاسکتے ہیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذاتی ڈیٹا کی پامالی کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا بلکہ جن لوگوں کو حساس معلومات تک رسائی ہے ان کے پاس کال کا مکمل ڈیٹا تک موجود ہوتا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ سندھ بلوچستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹرفیض اللہ کوریجو نے پچھلے ہفتے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس ڈیٹا کو سم کارڈز رجسٹرڈ کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے جعلساز ٹیلی فون کرکے دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب کے کئی علاقوں میں حالیہ آپریشن کے دوران 7سائبرکرائم کے واقعات میں ملوث 16 ملزمان گرفتار کرلئے گئے۔

فیض اللہ کوریجو کا مزید کہنا تھاکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ یہ ایکشن سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد لیا گیا جس میں یہ شکایات آرہی تھیں کہ اسٹیٹ بینک کے نمائندے اور آرمی آفیسر بن کر لوگوں کو کال کی جارہی تھیں۔

اس طریقہ کار کے تحت،غیرقانونی طور پر معلومات کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے منتقل کردئےجاتے۔کراچی کی ایک معمر خاتون کے اکاؤنٹ سے صرف 24 گھنٹے میں 20 لاکھ روپے ہتھیالئے گئے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تمام جعلی کالیں پنجاب کے چند اضلاع سے کی گئیں جن میں گوجرانوالہ،حافظ آباد اور رحیم یار خان شامل ہیں۔

ایف آئی اے کی حراست میں موجود ملزمان نے یہ بھی بتایا کہ جعلی کالز کے لیے جو موبائل فونز استعمال کئے گئے وہ واٹس ایپ گروپ پر ملنے والی معلومات کے ذریعے ایکٹیویٹ کئے گئے۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم نے بتایا کہ ساہیوال کے ایک شخص نے بائیومیٹرک مشین فراہم کیں جو موبائل فون کمپنیوں کے لیے مختص تھیں،یہ شخص ان سائبر کرائمز کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کو واٹس ایپ گروپ پر ایڈ کیا گیا ،جس سے قبل اس نے فیس بک پر گولڈن نمبر حاصل کرنے کےلیے رابطہ کیا تھا۔

ملزم نے طریقہ واردات سے متعلق یہ بھی بتایا کہ شہریوں کو فنگر پرنٹس اس ہی واٹس ایپ گروپ پر خریدے گئے جس کے بعد ان کو بائیومیٹرک مشین پر رکھ کر دیگرغیرقانونی کام کئے گئے۔

ایف آئی اے کےایک اور عہدے دار نے بتایا کہ ملزمان کے پاس اہم معلومات موجود ہیں،یہ پاکستان میں موجود ڈارک ویب سے متعلق ایک چھوٹی سے معلومات ہے،کئی دیگر راز بھی افشا ہونے باقی ہیں۔

نادرا کےایک عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ فنگرپرنٹ کے نشان چوری ہونا تشویش ناک بات ہے،یہ اسلام آباد میں موجود سینٹرلائزڈ ڈیٹا پروٹیکشن سینٹرکی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More