کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے، چیئرمین نیب

اب تک  |  Jul 10, 2020

اسلام آباد: (09 جولائی 2020) چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب کی مجموعی کار کردگی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔ چیئرمین نیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 466 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی توجہ بدعنوانی جیسے منی لانڈرنگ، بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دہی کے واقعات، بینک فراڈ، جان بوجھ کر بینک قرض نادہندگی، اختیارات کا غلط استعمال اور سرکاری فنڈز کے غبن پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ادارہ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی نگرانی کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نیب بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت پاکستان میں فوکل ادارہ ہے۔ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کو 2019ء  میں مجموعی طور پر 53 ہزار 643 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 42 ہزار 760 پراسس کی گئیں، جبکہ 2018ء میں 48 ہزار 591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 4 ہزار 141 کو نمٹایا گیا۔ نیب کو شکایات کی تعدا میں اضافہ نیب پر اعتماد کا اظہار ہے۔ نیب نے 2019ء میں 1308 شکایات کی جانچ پڑتال کی۔ 1686 انکوائریاں اور 609 انویسٹی گیشنز نمٹائی گئیں اور بدعنوان عناصر سے 141.542 ارب روپے وصول کیے گئے۔ نیب کا مجموعی طور پر سزا کا تناسب تقریباً 68.8 فیصد ہے جو دنیا میں وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں نمایاں کامیابی ہے۔ نیب نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک 466.069 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ یہ ٹیم ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور لیگل کنسلٹنٹ مالیاتی اور لینڈ ریونیو کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ نیب نے راولپنڈی میں اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ ستاویزات اور فنگ پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ 2019ء میں اس لیبارٹری سے 5 کیسز میں 300 انگوٹھوں کے نشانات، 15 ہزار 747 سوالیہ دستاویزات اور ڈیجیٹل فرانزک کیلئے 7 ڈیوائسز ( لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور ہارڈ ڈسک وغیرہ) کا فرانزک تجزیہ کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے۔ نیب کو سارک ممالک میں ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ادارہ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی نگرانی کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط دونوں ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافے کے پس منظر میں خاص طور پر اہم ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور بدعنوانی سے پاک ماحول میں کام کرنے کے عزم کے کا اظہار ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More