بیروت میں طاقت ور دھماکے سے کم از کم 60 افراد ہلاک، ہزاروں زخمی

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 04, 2020

ویب ڈسک — لبنان کے دارالحکومت بیروت میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں سے مشرقی بیروت میں بندرگاہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کئی عمارتوں کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق سینکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ زبردست جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 60 ہے جب کہ 2500 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لبنان کے وزیر اعظم حسان دیاب نے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دھماکے کے کئی گھنٹے بعد بھی ایمبولینسز زخمیوں اور نعشوں کو ہسپتال لے جاتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیروت کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

دھماکے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے مقام سے کئی کلو میٹر دور دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

لبنان کی داخلی سلامتی کے سربراہ عباس ابراہیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دھماکہ ممکنہ طور پر اس بارودی مواد میں ہوا ہے جو کچھ عرصہ قبل ایک بحری جہاز سے قبضے میں لے کر مقامی ویئر ہاؤس میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکہ خیز مواد سوڈیم نائٹریٹ تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل کے ایک سرکاری عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ اسرائیل کا اس دھماکے سے کوئی تعلق نہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مکانوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق دھماکے سے کچھ دیر قبل فائر کریکرز کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

لبنان جو خانہ جنگی کا سامنا کر چکا ہے، وہاں بھی اتنا بڑا دھماکہ ہونا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھماکوں کے متعلق بریف کیا گیا ہے اور امریکہ لبنان کے عوام کے لیے دعاگو ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں بیروت کی پورٹ پر ہونے والے دھماکوں سے متاثرہ افراد کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سانحے کے اثرات سے باہر نکلنے کے لیے مدد پر تیار ہیں۔

دھماکہ ایسے وقت پر ہوا ہے، جب اقوام متحدہ کی ایک عدالت میں لبنانی حزب اللہ کے چار ارکان پر سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

حزب اللہ کے ارکان پر الزام ہے کہ انہوں نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کو پندرہ سال قبل ایک ٹرک بم دھماکہ میں ہلاک کروا دیا تھا، جس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو زبردست دھچکہ لگا تھا۔

عدالت جمعے کو اس مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔

دھماکہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب لبنان اپنے کئی دہائیوں کے بدترین اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان کی جنوبی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More