سمیع چوہدری کا کالم: اس ڈریسنگ روم میں کافی شامیں بیت چکی ہیں

بی بی سی اردو  |  Aug 05, 2020

انگلینڈ کی وکٹوں پہ اب تک کافی دھوپ پڑ چکی ہے اور وہ قدرے خشک ہو رہی ہیں۔ گویا اب ان وکٹوں پہ سیم کا تناسب کم ہوتا جائے گا اور سپن کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔

یہی سوچ ہے کہ جس کی بنیاد پہ آج مصباح الحق دو سپنرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کریں گے۔ گو تاریخی طور پہ پاکستان کا انگلینڈ میں ریکارڈ بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے مگر اس بار پاکستان کو لندن میں کوئی میچ میسر نہیں ہے جہاں اسے اکثریتی کامیابیاں ملی ہیں۔

پاکستان کے لیے خوش کن بات مگر یہ ہے کہ میچ کے دوران مطلع صاف رہنے کا امکان ہے اور عموماً ایسی کنڈیشنز میں دو دن کی دھوپ کے بعد تیسرے دن پرانے گیند سے ریورس سوئنگ اور سپن دونوں کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صورتحال مختلف اور مشکل ہے لیکن ہم جیتنا چاہتے ہیں: بابر اعظم

محمد رضوان: ’سرفراز کا پرستار ہوں ان کی موجودگی سے خائف نہیں‘

بابر اعظم: فیصلے خود کرتا ہوں، مصباح باہر بیٹھ کر کنٹرول نہیں کرتے

اگر پاکستان شاداب خان کو بطور آل راؤنڈر شامل کرتا ہے کہ وہ ساتویں نمبر پہ بیٹنگ بھی کریں تو یہ ایک بہتر ٹیم کمبینیشن ہو گا کہ جہاں شان مسعود اور عابد علی اوپنگ کریں اور اظہر علی، بابر اعظم اور اسد شفیق مڈل آرڈر کو سنبھالیں۔ اور بعد ازاں محمد رضوان اور شاداب خان ٹیل کو ساتھ لے کر چلیں۔

پاکستان کے لیے برتری کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا بیٹنگ آرڈر انگلینڈ کی نسبت قدرے تجربہ کار اور مستحکم ہے اور اگر قسمت کچھ ایسی یاوری کرے کہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ کو نئے گیند کے ساتھ ابر آلود کنڈیشنز کا ساتھ مل جائے تو جو روٹ کا مڈل آرڈر ایکسپوز بھی ہو سکتا ہے۔

محمد عباس انگلینڈ میں کاؤنٹی کھیلنے کو بے تاب تھے کیونکہ یہ وہ تجربہ ہے جو ہر بڑا بولر اپنے پلے باندھنا چاہتا ہے۔ مگر کرونا نے محمد عباس کا شیڈول بھی درہم برہم کر دیا اور اب وہ کاؤنٹی کی بجائے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نوآموز اٹیک کی قیادت کر رہے ہوں گے۔

گو پاکستان ممکنہ طور پہ نئے گیند سے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو موقع دے گا مگر مڈل اوورز میں محمد عباس کو انگلش مڈل آرڈر کو خاموش رکھنا پڑے گا تا کہ دونوں جونئرز ان سے وہی فائدہ اٹھا سکیں جو جوفرا آرچر اور کرس ووکس اپنے سینیئرز سے اٹھاتے ہیں۔

تاریخی طور پہ پاکستان کی انگلش کنڈیشنز میں نمایاں کامیابی کی وجہ پاکستانی بولنگ رہی ہے جس نے میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کبھی وسیم اکرم تو کبھی وقار یونس اور کبھی محمد عامر انگلش کپتانوں کے لئے دردِ سر بنے۔

اگر نسیم شاہ اور شاہین آفریدی اب تک انگلش کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور اپنی بہترین فارم میں ہیں تو عین ممکن ہے کہ پاکستان متواتر تیسری سیریز ڈرا کر جائے۔

یہی دو ایسے مہرے ہیں کہ جن کی چال بیٹنگ لائن کو بھی اعتماد دے سکتی ہے اور سپنرز کا بھی حوصلہ بڑھا سکتی ہے۔

دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ نوآموز بولرز یہاں بھی کچھ ایسے ہی دباؤ میں آ جائیں جیسے ہمیں آسٹریلین کنڈیشنز میں دکھائی دیے تھے اور بٹلر و سٹوکس اور ہمنوا ان سے کچھ ویسا ہی سلوک کریں جو ڈیوڈ وارنر نے کیا تھا۔

مگر اس حادثے کو گزرے کئی مہینے بیت چکے ہیں۔ اب مصباح کے ساتھ ساتھ یونس خان اور مشتاق احمد کی ڈریسنگ روم میں موجودگی سے بھی بہت فرق پڑے گا۔ ویسے بھی اس آسٹریلوی سیریز کے بعد سے اب تک اس ڈریسنگ روم میں کافی شامیں بیت چکی ہیں

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More