گیٹس فاؤنڈیشن کی کورونا ویکسین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنی کے ساتھ شراکت

ڈی ڈبلیو اردو  |  Aug 09, 2020

GAVI نامی بین الاقوامی تنظیم ویکسینیشن مہمات کے لیے مخصوص ہے۔ اس تنظیم نے جمعہ سات اگست کو اعلان کیا کہ اس نے دنیا کے سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے بھارتی ادارے 'سیرم انسٹیٹوٹ‘ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق کووڈ انیس کی 'محفوظ اور کارگر‘  ویکسین کی تیاری اور 2021ء میں اس کی 100 ملین ڈوزز کم ترقی یافتہ ممالک کو فراہم کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کی ’تیر بہدف دوا‘ شاید کبھی نہ ملے: عالمی ادارہ صحت

کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین، یورپی یونین کی اہم ڈیل

بھارت کو کوروناویکسین کا اعلان کرنے کی اتنی جلد بازی کیوں ہے؟

اس اشتراک کے تحت سیرم انسٹیٹوٹ کو رقم فراہم کی جائے گی تاکہ کووڈ انیس کے خلاف مؤثر ویکسین کو لائسنس ملنے کے فوری بعد وہ بڑے پیمانے پر اس کی تیاری شروع کر سکے۔ یہ کمپنی اس کی تیاری آئندہ برس یعنی 2021ء کی پہلی ششماہی میں شروع کر سکتی ہے۔

GAVI کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکر سیتھ برکلے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد یہ ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین تک محض امیر ممالک کی ہی رسائی محدود نہ ہو۔

امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی مختلف دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ کووڈ انیس کی ویکسین کی فراہمی کے معاہدے کر چکے ہیں، حالانکہ ابھی تک کسی ویکسین کو باقاعدہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔

ویڈیو دیکھیے 01:36 جرمنی: کورونا وائرس کی ایک اور دوا کے تجربات کی منظوری

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3dyWe

جرمنی: کووڈ انیس کی ایک اور ویکسین کے انسانوں پر تجربات کی منظوری

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد مختلف افراد متنبہ کر رہے ہیں کہ اس صورتحال میں کسی ویکسین کی دستیابی محض ترقی یافتہ ممالک کو ہی ہو سکے گی اور کم ترقی یافتہ اقوام کے لیے اس مہلک مرض کی ویکسین تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔

ا ب ا / ش ح (روئٹرز، اے ایف پی)

ڈوئچے ویلے جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ، 30 زبانوں میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرتا ہے۔ ہمیں فالو کیجیے:  Facebook  | Twitter  | YouTube  

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More