کھانا حلال ہے یا حرام کیسے پتا لگایا جائے؟ وہ معلومات جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

روزنامہ اوصاف  |  Oct 18, 2020

آج کل بازار میں بکثرت ایسی چیزیں فروخت ہورہی ہیں، جن کے حوالے سے مشہور کر دیا گیا ہے کہ ان میں خنزیر کی چربی کی ملاوٹ ہے، جس باعث لوگ پریشان رہتے ہیں کہ آیا ایسی چیزوں کا استعمال شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں، اگر ناجائز ہے تو پھر اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے اور کیا تدبیر ہین، خاص طور پر اس وقت جب ایسی اشیاء تیزی کے ساتھ بازاروں میں فروخت ہورہی ہوں اور ہر جگہ دستیاب ہوں۔اور لوگ ان کے استعمال کے عادی ہوگئے ہیں،تو پھر ان سے کیونکر بچا جاسکتا ہے۔دراصل ہر کمپنی کا ایک مخصوص نمبر ہوتا ہے جو کہ ان کے اشیاء کے اوپر لگایا جاتا ہے تا کہ اس میں‌ استعمال ہونے والے اجزاء کا علم ہو اور ان کی پروڈکٹ دوسرے سے کیوں ‌مختلف ہے اس کا بھی ان کے کسٹمر کو پتا چلتا رہے۔ مطلب اس کوڈ میں ‌مکمل تفصٰلات ہوتی ہے جو کہ اس پروڈکٹ کے بارے میں‌جاننا ان کے کسٹمر کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اس کی شروعات یورپ میں ہوئی۔ لیکن جیسے ہی برآمدات اور درآمدات کا سلسلہ چل نکلا تو ہر ملک کی مختلف پالیسی ہونے کی وجہ سے صارف کے لئے اجزاء کے بارے میں‌ جاننا نہایت مشکل ہوگیا، جس کے بعد ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک ایسا کوڈ ہونا چاہئے جو کہ تمام ممالک میں‌ یکساں استعمال ہو۔ اور ہر جگہ کے گاہگ اس کو پڑھ کر سمجھ سکیںتاہم اس مقصد کے لئے ایک مکمل فہرست بنائی گئی۔اب جو بھی کوئی چیز بناتا ہے اس کے اوپر اجزاء کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ کوڈ بھی درج کرتا ہے اور یہ کوڈ اس بین الاقوامی فہرست کے تابع ہوتے ہیں‌، جس کی سبب کوئی بھی ان کو معلوم کر سکتا ہے کہ اس میں‌ کیا کچھ استعمال کیا گیا ہے۔ای کوڈ سے متعلق ‌کہا جاتا ہے کہ یہ حرام اشیاء پر مشتمل اشیاء کے لئے ہوتا ہے لیکن اس کی تصدیق کافی مشکل ہوتی ہے کیونکہ کھانے پینے اشیاء کی تیاری میں ‌یہ مختلف چیزوں‌ کا استعمال کرتے ہیں اور ان کے ہاں حلال و حرام کا کوئی تصور ہی نہیں‌،ساتھ ہی وہاں خنزیر اور اس کے گوشت کا کاروبار بہت وسیع پیمانے پر ہوتا ہے اور یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کن چیزوں میں اس کا گوشت استعمال کیا گیا۔ لیکن انٹرنیٹ پر اس کے تمام کوڈ موجود ہوتے ہیں تو آپ باآسانی انٹرنیٹ پر ملائحظۃ کر سکتے ہیں کہ اس کی تیاری میں‌ کیا کچھ استعمال کیا گیا ہے اور اس میں‌کتنے اجزاء ایسے ہیں‌جو کہ حرام ہیں۔اس لئے کوئی بھی چیز لیں ‌تو اس پر لگے کوڈ کو ضرو پڑھیں‌ اور انٹرنیٹ پر دیکھیں ‌کہ اس میں‌ کیا استعمال کیا گیا ہے، اور یاد رکھیں کہ جن اشیاء پر لکھا ہو کلہ اس میں ‌جانور کی چربی کا استعمال کیا گیا ہے اس سے احتیاط کریں کیونکہ ممکن ہے حرام جانور کی ہو۔اس کے ساتھ جو کوڈ مسلم علماء کی نگرانی میں کام کرنے والی لیبارٹری نے حرام قرار دی ہے ان کی بھی مکمل فہرست موجود ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More