گلگت بلتستان: عوامی ورکرز پارٹی کے بابا جان و دیگر اسیران کی سزائیں معطل، نو برس بعد رہائی

بی بی سی اردو  |  Nov 27, 2020

گلگت بلتستان کی حکومت نے وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما بابا جان سمیت ان کے دیگر ساتھیوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انھیں نو برس بعد رہا کر دیا ہے۔

جمعہ کی شام رہا ہونے والوں میں بابا جان اور ان کے دو ساتھی افتخار کربلائی اور شکر للہ بیگ عرف مٹھو شامل ہیں اور ان کے اہل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ بخیریت گھر پہنچ چکے ہیں۔

بابا جان کے بھائی اور ان کی رہائی کی تحریک کی قیادت کرنے والے امین جان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رہائیاں دراصل وادی ہنزہ میں اکتوبر کے ماہ میں سات روزہ دھرنے کے بعد ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کی نگران حکومت کی جانب سے بابا جان سمیت دیگر 14 سیاسی کارکنان کی 30 نومبر سے پہلے رہائی کے حوالے سے کروائی گئی یقین دہانی کے بعد ہی احتجاجی دھرنا ختم کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عطا آباد جھیل سے پانی کا اخراج شروع

'گلگت بلتستان عملی طور پر صوبہ ہے قانونی طور پر نہیں'

کیا گلگت بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت بدلنے جا رہی ہے؟

خیال رہے کہ بابا جان اور دیگر سیاسی کارکنوں کو سنہ 2011 میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جانب سے کیے گئے اجتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعدازاں عدالت نے گرفتار ہونے والے افراد کو 40 سال سے نوے سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھیں۔

امین جان کا کہنا تھا کہ بابا جان اور ان کے ساتھیوں پر مقدمات ختم نہیں ہوئے ہیں بلکہ نگران حکومت نے خود کو حاصل ہونے والے قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان سب اسیروں کی سزاؤں کو معطل کیا ہے جبکہ ان کی اپیل اس وقت اپیلیٹ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

بابا جان اور ان کے دو ساتھیوں کی رہائی سے پہلے 12 دیگر اسیروں کو نومبر ہی کے ماہ میں مختلف اوقات میں رہا کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بابا جان اور ان کے دیگر ساتھیوں کو عدالت نے ’فرقہ وارانہ فسادات‘ کا مرتکب بھی قرار دیا تھا۔ ان مقدمات میں مجموعی طور پر 18 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک عامر خان کو شدید بیمار ہونے کی وجہ سے دو سال قبل ضمانت دی گئی تھی اور رواں برس اکتوبر میں وہ وفات پا گئے تھے۔

سیاسی کارکنوں پر قائم مقدموں کا پسِ منظر

سنہ 2010 میں عطا آباد کے مقام لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد گاؤں اور دیہات زیرِ آب آ گئے تھے۔ ان مقامی آبادیوں کی جگہ پر بعد میں عطا آباد جھیل وجود میں آ گئی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق عطا آباد جھیل کے وجود میں آنے سے لگ بھگ ایک ہزار گھرانے بے گھر ہوئے تھے۔

گلگت بلتستان کی حکومت نے ان بے گھر متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا مگر ان میں سے کچھ متاثرین کا دعویٰ تھا کہ انھیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج موصول نہیں ہوا۔

حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا۔

اس وقت ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سنہ 2011 میں ہونے والے اس عوامی احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیاں تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی۔

مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمات دہشت گردی کی عدالت میں چلے۔ سنہ 2014 میں ملزمان میں سے پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری جبکہ بابا جان سمیت دیگر کارکنوں کو 40 سال سے لے کر 60 سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

سنہ 2015 میں بابا جان نے جیل سے گلگت بلتستان کے عامانتخابات میں حصہ لیا تھا۔ وہ 5200 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن پر رہے تھے جبکہ جیتنے والے امیدوار نے چھ ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔

عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ سنہ 2015 کے آخر میں بابا جان سمیت تمام افراد کو بری کر دیا گیا تاہم حکومت نے چیف کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سنہ 2016 میں بابا جان اور ان کے ساتھی رہا ہوئے اور ہنزہ سے بعض وجوہات کی بنا پر نشست خالی ہوئی تو بابا جان نے ایک بار پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جو کہ الیکشن کمیشن نے قبول کر لیے۔

تاہم اپیلیٹ کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سوموٹو ایکشن لینے کے علاوہ حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔

بابا جان کی والدہ نے اقوام متحدہ سے بھی اپنے بیٹے اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کے لیے اپیل کی تھی۔

جیل میں موجود اسیران کے اہلِ خانہ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

بابا جان کے علاوہ سلیمان کریم بھی ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے قید بامشقت کاٹی تھی۔ عدالت نے انھیں 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

بی بی سی کے صفحات پر سات اکتوبر 2020 کو شائع ہونے والی تحریر میں سلیمان کریم کے اہلِ خانہ سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس دوران انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا رہا۔

سلیمان کریم کے بھائی شیر علی نے بتایا کہ ’میرے بھائی نفسیاتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں بھائی کا علاج اپنے خرچے پر گلگت بلتستان میں کروایا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا تو گلگت میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر ان کو حکام نے پمز ہسپتال منتقل کیا، جہاں پر کافی دن زیر علاج رہے۔

شیر علی کے مطابق قیدی ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے بھائی کا علاج اپنے خرچ پر کروایا ہے جس کے لیے اپنا واحد مکان بھی فروخت کر دیا۔ ’ہماری بوڑھی ماں بیٹے کی راہ تکتے تکتے آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھی ہیں۔‘

ان کی زوجہ ناہید اختر کا کہنا تھا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ میرے خاوند کو رہا کر دیا گیا تھا پھر دوبارہ کیوں گرفتار کیا گیا۔ ’اتنی سزا کس بات کی ہے۔ کیا انھوں نے کوئی قتل کیا ہے؟‘

ناہید اختر کا کہنا تھا کہ میرے خاوند کا ایک بھائی، اپنے بھائی کی قید کے دوران گردے اور دل کے امراض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکا ہے۔ ’میرے سسر بوڑھے ہیں، وہ نہ بات کر سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں۔ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اب میں محنت مزدوری کرتی ہوں۔‘

’میرے بچے بار بار پوچھتے ہیں کہ ہمارے پاپا کدھر ہیں۔ ان کو اس سوال کا جواب دینے کے لیے میر ے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More