نئی پرائیویسی پالیسی پر واٹس ایپ کے سربراہ کی وضاحت

ہم نیوز  |  Jan 11, 2021

کیلیفورنیا: واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد سربراہ ول کیتھ کارٹ نے وضاحت پیش کی ہے۔ 

واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے نہ ہی اُن کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث واٹس اور فیس بک نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، جبکہ وہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔

I’ve been watching a bunch of discussion this week about the privacy policy update we’re in the process of making and wanted to share some thoughts.

Thread 👇

— Will Cathcart (@wcathcart)

ول کیتھ کارڈ کا مزید کہنا تھاکہ انہوں نے اپنی پالیسی کو شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے اور اس میں پیپل ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پالیسی کو اکتوبر میں تحریر کیا تھا، جس میں واٹس ایپ میں موجود کامرس کو بھی شامل کیا تھا۔

With end-to-end encryption, we cannot see your private chats or calls and neither can Facebook. We’re committed to this technology and committed to defending it globally. You can read more here: https://t.co/YpR5RaGoW1

— Will Cathcart (@wcathcart) January 8, 2021

واٹس ایپ کے سربراہ نے توئٹر پیغام میں تحریر کیا کہ ہر ایک کو شاید علم نہیں کہ متعدد ممالک میں کاروباری اداروں کے واٹس ایپ پیغامات کتنے عام ہیں، درحقیقت روزانہ 17 کروڑ سے زیادہ افراد کسی ایک بزنس اکاؤنٹ کو میسج کرتے ہیں، اور متعدد ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایپ واٹس ایپ نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے اور صارفین کو 8 فروری تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اسے قبول کریں ورنہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کی نئی پالیسی قبول نہ کرنے پر اکاؤنٹ ڈیلیٹ

واٹس ایپ نے صارفین کے لیے اپنی اپڈیٹ پالیسی کے نوٹیفیکیشنز اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں قسم کے موبائل صارفین کو بھیج دیے ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف استعمال کرے گا بلکہ اسے فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری ہونے والے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کس طرح آپ کی ذاتی معلومات حاصل کر کے اُسے فیس بک کے لیے استعمال یا اسے فراہم کرتی ہے۔

پالیسی کے مطابق واٹس ایپ سروس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی دوسرے بزنس کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں تو اس کی تمام معلومات کمپنی کے پاس پہنچ جاتی ہیں جس کو فیس بک کی زیرملکیت دیگر ایپلیکیشنز سے شیئر کیا جاتا ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری نئی پالیسی کے مطابق ادارے کو اپنی مارکیٹنگ، سپورٹ، تبدیلیاں اور سروسز کو بہتر بنانے کے لیے صارفین کی معلومات درکار ہیں، جو نئی پالیسی کو قبول کیے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ پر ایک دن میں کالز کا ریکارڈ قائم

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر رہا ہے جن میں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں۔

نئی پالیسی 8 فروری سے نافذ العمل ہوگی، جو صارف اس سے اتفاق نہیں کرے گا کمپنی اس کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دے گی۔ دوبارہ اکاؤنٹ بنانے کے لیے اس قواعد و ضوابط کی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More