اسکول میں مار کھانے کے دن گئے: شہزاد رائے کا بچوں کے نام اہم پیغام

روزنامہ اوصاف  |  Feb 25, 2021

اسلام آباد(نیوزڈیسک)حال ہی میں اسکولوں اور کام کی جگہوں پر بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف قومی اسمبلی میں منظورکیے گئے بل سے متعلق شہزاد رائے کی ایک ویڈیو سا منے آئی ہے جس میں گلوکار و سماجی کارکن  نے بچوں کو پیغام دیا ہے۔ویڈیو میں شہزاد رائے بچوں کو مثالیں دیتے ہوئے بتارہے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی آپ کو تھپڑ مارے ،دھکا دے یا پھر آپ پر تشدد کرے تو آپ کس طرح بچ سکتے ہیںویڈیو میں بچوں کے لیے قومی اسمبلی میں منظور کیے گئے بل کو بھی دکھایا گیا ہے۔شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ ہم بچوں کو بچپن ہی سے تشدد سکھارہے ہوتے ہیںجب وہ پیدا ہوتے ہیں تو ماں باپ ان کی پٹائی کرتے ہیں ، جب اسکول جاتے ہیں تو اساتذہ اور جب سوسائٹی میں آتے ہیں تو پولیس والے ، اسی لیے ان کو بڑے ہونے کے بعد یہ لگتا ہے کہ اگر زندگی میں جب بھی کسی سے کوئی کام کروانا ہو تو اس کا طریقہ پٹائی ہی ہےشہزاد رائے نے معاشرے میں ہونے والے جرائم میں اضافے کا سبب بھی جسمانی تشدد کو قرار دیتے ہوئے والدین سے بچوں کی پٹائی نہ لگانے کی درخواست کی اور بچوں کو مشورہ دیا آئندہ جب بھی اسکول میں اساتذہ آپ کی پٹائی کریں تو آپ ان کو تنبیہ کرسکتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں بل منظور کرلیا گیا ہے، اگر اب بھی آپ مجھ پر تشدد کریں گے تو آپ کی نوکری جاسکتی ہے کیونکہ یہ ایک جرم ہےویڈیو میں گلوکار کی جانب سے بچوں پر کیےجانے والے تشدد کی ویڈیو بھی ان سے شیئر کرنے کی درخواست کی گئی۔ شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ آپ بچوں پر کیے جانے والے تشدد کی ویڈیو ہم سے شیئر کرسکتے ہیں تاکہ ہم معاشرے میں موجود ان مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرسکیں ۔واضح رہے کہ حال ہی میں اسکولوں اور کام کی جگہوں پر بچوں کی جسمانی سزا کے خلاف قومی اسمبلی میں بل منظور کیا گیا جس میں بچوں پر تشدد کو قابل جرم قرار دیا گیا ہے۔بل کے مطابق بچوں سے ہتک آمیز رویہ، بدنام کرنا، دھمکانا اور خوف زدہ کرنا قابل سزا ہوگا جب کہ بچوں پر تشدد کرنے والے کو ملازمت میں تنزلی، معطلی، برخاستگی اور جبری ریٹائر کیا جائے گا۔خیال رہے کہ بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کی روک تھا م کے لیے شہزاد رائے نے گزشتہ برس درخواست دائر کی تھی جب کہ بل منظور ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی شہزاد رائے کی کوششوں کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More