برصغیر کے نامور لوک گلوکار شوکت علی بھی مداحوں کو اکیلا چھوڑ گئے

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 02, 2021

کراچی — 

جب بھی پاکستان میں لوک موسیقی کی بات ہوگی۔ گلوکار شوکت علی کا نام سرِ فہرست ہو گا۔ انہوں نے امریکہ، برطانیہ اور بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ فلموں میں گلوکاری اور اداکاری کے ساتھ ان کی دو شعری مجموعے بھی کافی مقبول ہوئے۔ جگر کے عارضے میں مبتلا 77 برس کی عمر میں اس گلوکار کے انتقال کی خبر سے پنجابی اور اردو گیت سننے والوں کو دکھ پہنچا۔

شوکت علی تین مئی 1944 کو لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں میاں فقیر بخش کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق ضلع گجرات کے علاقے ملکوال سے تھا۔ ان کے والد پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔ وہ انہیں پہلوان بنانا چاہتے تھے لیکن بڑے بھائی عنایت علی نے، جو خود بھی ایک لوک گلوکار تھے، شوکت علی میں موسیقی سے لگاؤ دیکھا اور ان کی رہنمائی کی۔

شوکت علی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں کیا جب پاکستانی پنجابی فلموں کا بول بالا تھا۔ پہلا اردو فلمی گیت 'ماں کے آنسو ' اور پہلا پنجابی فلمی گیت پنجابی فلم 'تیس مار خان' میں گایا جو بے حد مقبول ہوئے۔ اس کے بعد 1965 میں پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہونے والے جنگی ترانوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

مسعود رانا کے ہمراہ 'جاگ اٹھا ہے سارا وطن' ہو یا جنگی ترانا 'اے دشمن دیں تو نے'، شوکت علی نے ہر گیت میں اپنی جان دار آواز سے زندگی بھر دی۔ ان کے گائے ہوئے ملی نغمے 'اپنا پرچم ایک ہے، اپنا قائد اعظم ایک ہے' اور ’اے پاک وطن تو رخشندہ' آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

1970 میں ان کا گایا ہوا گیت 'کیوں دور دور رہتے ہو' اس قدر مقبول ہوا کہ بھارت نے 40 سال بعد اسے فلم 'لو آج کل' میں شامل کیا۔ ٹی وی کے آنے کے بعد وہ اس میڈیم کا مستقل حصہ بن گئے۔ کلام اقبال ہو، فیض احمد فیض کی نظم یا کوئی صوفی کلام، شوکت علی کی آواز کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔

سن 1960 سے لے کر 1990 تک وہ پاکستانی فلموں میں گلوکاری کرتے رہے چاہے وہ فلم 'مس ہانگ گانگ' کا کوئی گیت ہو یا فلم 'جیوا' کا۔ ان کے گیت فلموں کی کامیابی میں شامل رہے۔ انہیں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں پر عبور بھی حاصل تھا اور ان کے گائے ہوئے گانے مقبول بھی ہوتے تھے۔

سن 1975 میں انہوں نے لاہور ٹی وی کے مشہور پروگرام 'جی آیا نوں ' میں نہ صرف پرفارم کیا۔ بلکہ اسے تحریر بھی کیا اور میزبانی کے فرائض بھی انجام دیے۔ وہ پاکستان کے پہلے گلوکار تھے جنہوں نے ناصرف کوئی ٹی وی پروگرام تحریر کیا بلکہ اس کی میزبانی بھی کی۔

سن 1982 میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب ہو یا امریکہ اور برطانیہ میں میوزیکل شو، شوکت علی نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں وارث شاہ اور میاں محمد بخش کا صوفی کلام گا کر مقبولیت حاصل کی۔

گلوکار شوکت علی نے نہ صرف اردو اور پنجابی فلموں میں گیت گائے، بلکہ 80 کی دہائی میں دو فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں داؤد بٹ کی 'کفارہ' اور جاوید رضا کی 'اکبرا' شامل ہیں۔ 1990 میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا۔ جب کہ انہیں مختلف ادوار میں 'پرائیڈ آف پنجاب' اور 'وائس آف پنجاب' کے القابات سے بھی نوازا گیا۔

شوکت علی بچوں کے لیے میگزین ’بکھیرو‘ میں نظمیں بھی لکھا کرتے تھے۔ 2005 اور 2006 میں ان کے دو شعری مجموعے بھی مارکیٹ میں آئے جنہیں ایک بڑے طبقے نے بے حد پسند کیا۔

پاکستان اور بھارت کی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگانے والے گلوکار و موسیقار شیراز اپل کا کہنا تھا کہ شوکت علی ایک باکمال شخصیت کے مالک اور بہترین گلوکار تھے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شوکت علی نے بے شمار ملی نغمے بھی گائے اور حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ وہ بہت ہی منفرد آواز کے مالک تھے۔

سابق صدر آصف علی زرداری سمیت کئی سماجی اور سیاسی شخصیات نے معروف گلوکار شوکت علی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تعزیتی بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ شوکت علی کی وفات سے ملک ایک بہت بڑے گلوکار سے محروم ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فن کے لیے شوکت علی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More