پاکستان کے پارلیمانی وفد کا دورۂ افغانستان 'سیکیورٹی وجوہات' کے باعث ملتوی

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 08, 2021

ویب ڈیسک — پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کو اسلام آباد سے کابل لے جانے والا طیارہ جمعرات کو لینڈنگ سے کچھ دیر قبل سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر واپس اسلام آباد پہنچ گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دورہ ملتوی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں نو رکنی وفد نے افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر رحمٰن رحمانی کی دعوت پر افغانستان کا تین روزہ دورہ کرنا تھا۔

افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے ایک ٹوئٹ کی کہ طیارہ کابل ایئرپورٹ پر اترنے والا تھا کہ کنٹرول ٹاور کی جانب سے ایئرپورٹ بند کرنے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

بعدازاں اسد قیصر نے ٹوئٹ کی کہ "سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کابل ایئرپورٹ بند ہونے کی وجہ سے پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان ملتوی ہوگیا ہے۔"

تاہم افغان سول ایوی ایشن کے ترجمان محمد نعیم صالحی نے کہا ہے کہ رن وے پوائنٹ فائیو پر تیکنیکی وجوہات کے باعث ایئرپورٹ کو ایک گھنٹہ بیس منٹ کے لیے بند کیا گیا تھا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مذکورہ مقام پر تعمیراتی کام کے بعد ایئرپورٹ پر پروازیں بحال ہو جائیں گی۔

دوسری جانب افغان خبر رساں ادارے 'طلوع نیوز' نے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کابل کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایئر پورٹ کے قریب عمارت میں دھماکہ خیز مواد نصب کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔

البتہ، سرکاری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستانی وفد میں کون کون تھا؟پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے 'اے پی پی' کے مطابق نو رکنی وفد میں اسد قیصر کے علاوہ افغانستان کے لیے وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی محمد صادق، اراکین قومی اسمبلی شاندان گلزار، محمد یعقوب شیخ، ساجد خان مولانا صلاح الدین ایوبی، گل داد خان، غلام مصطفیٰ شاہ اور سیکریٹری قومی اسمبلی شامل تھے۔

پاکستان کے پارلیمانی وفد کے دورے کے سلسلے میں افغانستان میں تمام تیاریاں مکمل تھیں اور اسد قیصر نے دونوں ممالک کے پرچم اور استقبالیہ بینرز کی ویڈیو شیئر بھی کی تھی۔افغان پارلیمان کے سیکریٹری کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد کی افغان صدر اشرف غنی اور وزیرِ خارجہ محمد حنیف اتمر سے ملاقات طے تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More