شہزادہ فلپ کی آخری رسومات: شاہی خاندان فوجی یونیفارم نہیں پہنے گا

ہم نیوز  |  Apr 16, 2021

لندن: ملکہ برطانیہ نے اپنے خاوند شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شریک ہونے والے خاندان کے اعلیٰ افراد کو فوجی یونیفارم پہننے سے منع کردیا ہے۔

برطانوی شاہی خاندان کی روایت کے مطابق اہم مواقع پر شاہی خاندان کے افراد بطور خاص فوجی وردی پہنتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی  رائٹرز کے مطابق ملکہ برطانیہ کی جانب سے یہ فیصلہ اپنے بیٹے شہزادہ اینڈریو اور پوتے شہزادہ ہیری کو کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

99 سال کی عمر میں وفات پانے والے شہزادہ فلپ کی آخری رسومات ہفتہ کے دن ونڈسر محل میں ادا کی جائیں گی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں شامل ہونے والے شاہی خاندان کے اراکین فوجی یونیفارم کے بجائے رسمی لباس پہنیں گے۔

یاد رہے کہ شہزادہ ہیری کی جانب سے شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کے اعلان کے بعد ان کے اعزازی فوجی عہدے واپس لے لیے گئے تھے جس کے بعد وہ اپنا فوجی یونیفارم پہننے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

ملکہ برطانیہ اور شہزادہ فلپ کے 61 سالہ بیٹے شہزادہ اینڈریو سے بھی ایڈمرل کا اعزازی عہدہ واپس لے لیا گیا تھا جس کے بعد وہ بھی اپنا فوجی یونیفارم نہیں پہن سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے اپنے والد کی آخری رسومات کی تقریب کے موقع پر اپنا فوجی یونیفارم پہننے کی خواہش کا اظہاربھی کیا ہے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن کا انٹرویو: شہزادہ ولیم کا ردعمل سامنے آگیا

خبر رساں ایجنسی کے مطابق بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا ہے کہ تقریب کی تمام تیاریاں ملکہ کے احکامات کے تحت کی گئی ہیں۔ شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں ملکہ سمیت خاندان کے 30 افراد شرکت کریں گے۔

آخری رسومات کے دن شہزادہ فلپ کا جسد خاکی خصوصی طور پر تیار کردہ لینڈ روور کے ذریعے سینٹ جارج چیپل لے جایا جائے گا۔

ملکہ اور شہزادہ فلپ کے بیٹے شہزادہ چارلس سمیت شاہی خاندان کے اراکین شہزادہ فلپ کے جنازے کے پیچھے چلیں گے جب کہ ملکہ برطانیہ الگ سے چیپل جائیں گی۔

شہزادہ ہیری کو امریکی کمپنی میں ملازمت مل گئی

50 منٹ تک جاری رہنے والی تقریب کے دوران ملک بھر میں ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More