راؤل کاسترو کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکرٹری کے عہدے سے دستبردار

ہم نیوز  |  Apr 17, 2021

صدر راؤل کاسترو نے پانچ دہائیوں کے بعد کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکرٹری کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

1965 میں تشکیل دی جانے والی اور پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک کیوبا میں برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کی قیادت پہلی بار مرحوم فیدل کاسترو یا ان کے چھوٹے بھائی اور موجودہ صدر راؤل کاسترو کے پاس نہیں رہے گی۔

اس سے پہلے سابق صدر  فیدل 1965 سے لے کر 2011 تک کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔ سابق صدر اور کمیونسٹ انقلاب کے سربراہ فیدل کاسترو کی 2016 میں رحلت کے بعد راول کاسترو پارٹی کے فرسٹ سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

فیدل کاسترو نے 1959 میں کیوبا  میں جنرل فولجینیو بتستا کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے انقلاب کی قیادت کی تھی اور ان کے چھوٹے بھائی راؤل ان چھاپہ مار کمانڈروں میں سے ایک تھے۔

راؤل 3 جون 1931 کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم ہوانا میں حاصل کی۔ بعد میں راؤل کاسترو نے ہوانا یونیورسٹی سے معاشیات کی تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے کمیونسٹ نوجوانوں کے گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

انہوں نے 1953 میں اپنے بڑے بھائی فیدل کے ساتھ سینٹیاگو ڈی کیوبا میں فوجی بیرکوں پر ناکام فوجی حملے کی منصوبہ بندی کی جس کا مقصد جنرل فولجینیو بتستا اقتدار سے معزول کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: 

اس حملے میں حصہ لینے پر انہیں 13 سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن انہیں 1955 میں انہیں عامی معافی مل گئی اور میکسیکو جلاوطن کر دیے گئے۔

میکسیکو  میں ان کی دوستی ارجنٹائن کے انقلابی اور گوریلے رہنما ارنسٹو چی گویرا سے ہوئی اور انہوں نے ہی چی گویرا کو فیڈل کاسترو سے متعارف کرایا۔

بعد میں راؤل کاسترو نے اپنے بھائی فیدل کے ساتھ مل کر سیرا میسٹرہ کے پہاڑوں سے گوریلا جنگی مہم چلائی جس کی وجہ سے جنرل باتستا کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔

فیدل کاسترو نے  راؤل کاسترو کو بطور وزیر اعظم اور انقلابی مسلح افواج کا انچارج مقرر کیا تھا۔ ان عہدوں پر وہ 2008 تک براجمان رہے۔

1965 میں راؤل کاسترو کو کیوبا کی نئی تشکیل شدہ کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے سیکنڈ سیکرٹری کا عہدہ دے دیا گیا تھا۔

راؤل کاسترو نے بطور صدر نہ صرف پوپ فرانسس کا  کیبوبا میں استقبال کیا بلکہ انہوں نےسابق امریکی صدر باراک اوباما سے بھی مصافحہ کیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More