انڈیا میں کورونا کے بڑھتے کیسز، مودی پر لاک ڈاون لگانے کے لیے دباو

اردو نیوز  |  May 08, 2021

انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز اب بھی ریکارڈ سطح تک بڑھ رہے ہیں۔ اس بحث کے دوران انڈین  وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن لگانے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انڈیا کے متعدد طبی ماہرین،اپوزیشن رہنماؤں اور سپریم کورٹ کے کچھ ججوں نے تجویز پیش کی ہے کہ شہروں اور قصبوں میں وائرس کے پھیلنے سے لاک ڈاؤن ایک واحد آپشن نظر آتا ہے جہاں ہسپتال مریضوں کو واپس بھیجنے پر مجبور ہیں۔

رشتہ دار آکسیجن تلاش کرنے کی جستجو کر رہے ہیں جبکہ قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں بھی جگہ کم پڑ گئی ہے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انڈیا نے جمعے کو گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار لاکھ 14 ہزار 188 تصدیق شدہ  کیسوں کا نیا ریکارڈ ریکارڈ کیا ہے۔ انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 21.4 ملین سے زیادہ ہوگئی ہے۔

انڈیا کی وزارت صحت نے بھی تین ہزار 915 اضافی اموات کی اطلاع دی ہے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 34 ہزار 83 ہو گئی ہے۔ سرکاری اموات کی روزانہ تعداد گذشتہ 10 دنوں سے تین ہزار سے زیادہ ہے۔

پچھلے ماہ کے دوران  انڈیا کی 28 میں سے ایک درجن کے قریب وفاقی ریاستوں نے مارچ میں دو ماہ کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاون کے مقابلے میں کم سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندی مودی نے جمعرات کو بدترین متاثرہ ریاستوں کے منتخب رہنماؤں اور حکام سے مشاورت کرنے کے بعد اب اس وائرس سے لڑنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر چھوڑ دی ہے۔

ایک سرکاری ماہر صحت ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ انڈیا میں گذشتہ سال کی طرح ایک مکمل،جارحانہ لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں جانچ پڑتال کرنے والوں میں سے 10 فیصد سے زیادہ کا کوویڈ 19 ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

ریاستیں اس وبا کی مختلف شدتوں کا سامنا کر رہی ہیں(فوٹو اے ایف پی)پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر سری ناتھ ریڈی نے اعتراف کیا ہے کہ مختلف ریاستیں اس وبا کی مختلف شدتوں کا سامنا کر رہی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اب بھی ’مربوط ملک گیر حکمت عملی‘ کی ضرورت ہے۔

سری ناتھ ریڈی کے مطابق فیصلے مقامی حالات پر مبنی ہونے کی ضرورت ہے لیکن مرکز کو قریب سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا  کہ  ’ایک آرکسٹرا کی طرح جو ایک ہی شیٹ میوزک چلاتا ہے لیکن مختلف آلات کے ساتھ ۔‘

امریکی صدر جو بائیڈن کے چیف میڈیکل ایڈوائزر  انتھونی فوکی نے بھی مشورہ دیا کہ انفیکشن کے اضافے کو کم کرنے کے لیے انڈیا میں دو سے چار ہفتوں کے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ نریندر مودی نے چار گھنٹے کے نوٹس پر گذشتہ سال دو ماہ کا سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ اس لاک ڈاؤن نے دسیوں لاکھوں  ورکروں کو پھنسا دیا جو بے روزگار ہو کر اپنے گاؤں کی جانب بھاگے گئے تھے اور کئی راستے میں ہلاک گئے تھے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کورونا وائرس پر قابو پانے میں مدد ملی اور حکومت کے لیے وقت خریدا گیا۔

نریندر مودی کی حکومت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔(فوٹو اے ایف پی)کچھ ماہرین نریندر مودی کی منتخب کردہ لاک ڈاؤن پالیسی کی حمایت بھی کر رہے ہیں جن میں قومی انسٹیٹیوٹ آف امیونولوجی کی سائنس دان وینیتا بال بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی مختلف ضروریات ہیں  اور کسی بھی پالیسی کو کام کرنے کے مقامی خصوصیات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیںانڈیا میں 24 گھنٹوں کے دوران 4000 کے قریب ہلاکتیں، کورونا کے ریکارڈ نئے کیسزNode ID: 563796انڈیا میں کورونا نے 2 کروڑ 30 لاکھ شہریوں کو غربت میں دھکیل دیاوینیتا بال نے کہا کہ زیادہ تر ان جگہوں پر جہاں صحت کے بنیادی ڈھانچہ درست ہے، ریاست کی سطح پر یا یہاں تک کہ ضلع کی سطح پر مقامی پابندیاں، انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا میں منگل کو کورونا متاثرین کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی تھی جس کے بعد یہ دنیا میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت معیشت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی وجہ سے ایسا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔

کانگریس کے رہنما اور پارلیمنٹ کے رکن راہل گاندھی نے منگل کو اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد رستہ اب مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا کا غیر عملی رویہ معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔‘

انڈیا میں کورونا وائرس سے صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ہسپتالوں میں بیڈز اور آکسیجن ختم ہو گئی اور شمشان گھاٹوں میں بھی جگہ کم پڑ گئی۔ بہت سارے لوگ بیڈز یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ایمبولینس اور کار پارکنگ میں ہلاک ہو گئے۔

دوسری لہر پر بروقت قابو نہ پانے پر نریندر مودی کی حکومت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More