پاکستان بمقابلہ زمبابوے: آخری وکٹ نے زیادہ انتظار نہیں کرایا، پاکستان اننگز اور 147 رنز سے جیت گیا

بی بی سی اردو  |  May 10, 2021

ہرارے ٹیسٹ کے تیسرے دن جب کھیل ختم ہوا تھا تو ڈریسنگ روم کی طرف واپس جاتے ہوئے پاکستانی کھلاڑی زمبابوے کی اس آخری وکٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ جو ان کی جیت کی راہ میں حائلہوگئی تھی۔ کچھ کھلاڑیوں کے ذہنوں میں اس ایک وکٹ کے بارے میں مختلف خیالات چل رہے تھے۔

کپتان بابراعظم چوتھے دن اس آخری وکٹ کو جلد سے جلد حاصل کر کے ٹیسٹ میچ کو اس کے منطقی انجام پرپہنچانے کے لیے بے چینتھے۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے لیے یہ آخری وکٹ اس لیے اہم تھی کہ وہ اسے حاصل کر کے اننگز میں پانچ وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی کے ساتھ نمایاں ہو جانے تھے۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے تابش خان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ چوتھے دن انھیں بولنگ مل جائے اور وہ اس آخری وکٹ کو حاصل کر کے زمبابوے کی اس دوسری اننگز میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر سکیں۔

اور زمبابوے کی یہ آخری وکٹ بالآخر شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں آ گئی جنھوں نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے تین بولرز نے کسی ٹیسٹ میچ میں اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کا چھٹا موقع ہے۔

چوتھے دن جب کھیل شروع ہوا تو پاکستانی ٹیم کو اس آخری وکٹ کے حصول کے لیے چھ اوورز کا انتظار کرنا پڑا۔ لیوک جونگوے 37 رنز بناکر شاہین آفریدی کی گیند پر وکٹ کیپر محمدرضوانکے ہاتھوں آؤٹ ہوئے اور پاکستان نے اننگز اور 147 کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان جیت سے بس ایک وکٹ دور

مُساکندا کی خود ترسی کسی کام نہ آئی

گویا نتیجہ طے ہو چکا، بس اعلان باقی ہے: سمیع چوہدری کا کالم

پاکستان نے زمبابوے کے خلاف یہ سیریز دو صفر سے جیتی۔ اس نے پہلا ٹیسٹ بھی اننگز اور 116 رنز کے واضح فرق سے جیتا تھا۔

دوسرے ٹیسٹ کے قابل ذکر کھلاڑی

ہرارے میں کھیلے گئے اس دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 510 رنز بنائے۔ اوپنر عابد علی جن پر ایک بڑی اننگز پچھلے کچھ میچوں سے قرض تھی شاندار ڈبل سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اظہرعلی نے بھی تین ہندسوں کی اننگز داغی لیکن سب سے خوشگوار حیرت لیفٹ آرم سپنر نعمان علی کی طرف سے دیکھنے میں آئی جنھوں نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 97 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلیجس میں پانچ چھکے اورنو چوکے شامل تھے۔

اس اننگز میں ان کی پہلی غلطی ہی آخری ثابت ہوئی اور ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی ناکام کوشش کے بعد وہ بروقت اپنا پیر کریز میں نہ لا سکے اور اسٹمپڈ کی صورت میں انھیں اپنی وکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

نعمان علی نے عابد علی کے ساتھ آٹھویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی 169 رنز کا اضافہ کیا۔یہ شراکت اس لیے بھی اہم رہی کیونکہ اظہرعلی کے آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر بیٹنگ نے ہچکولے کھائے اور تین اہم بیٹسمین بابراعظم، فواد عالم اور محمد رضوان جلد پویلین لوٹ گئے تھے۔

پاکستانی بولرز نے زمبابوے کی پہلی اننگز صرف 132 رنز پر سمیٹ دی جس میں نمایاں کردار حسن علی کا رہا جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے صرف 27 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

حسن علی جب سے ٹیم میں واپس آئے ہیں ان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ چھ اننگز میں چار مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں میزبان ٹیم کی طرف سے مزاحمت دیکھنے میں آئی اور اس نے سیریز میں پہلی بار دو سو رنز کو عبور کیا جس کی بڑی وجہ وکٹ کیپر ریگس چکبوا کی 80 رنز کی اہم اننگز تھی۔

کپتان برینڈن ٹیلر ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔ان دونوں کو آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی بولرز کے لیے راستہ کھلتا چلا گیا اور وہ ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کرتے گئے۔

نعمان علی نے اپنے چوتھے ٹیسٹ میں دوسری مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

شاہین شاہ آفریدی نے کھیل کے آخری حصے میں اپنی خطرناک یارکر کے ذریعے لگاتار دو گیندوں پر وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیوک جونگوے اور آخری بیٹسمین بلیسنگ موزاربانی 30گیندیں کھیل کر میچ کو چوتھے دن تک لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔

بابراعظم کی صرف نو گیندوں کی سیریز

ملک
Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اگرچہ بابراعظم کی قیادت میں پہلی بار ملک سے باہر ٹیسٹ سیریز جیتی لیکن بحیثیت بیٹسمین یہ سیریز ان کے لیے بڑی مایوس کن رہی۔ پاکستانی ٹیم نے دونوں ٹیسٹ اننگز کے فرق سے جیتے جس کی وجہ سے بابراعظم کو صرف دو بار بیٹنگ کا موقع ملا اور دونوں بار وہ ڈبل فگرز میں آنے سے پہلے ہی آؤٹ ہوگئے۔

پہلے ٹیسٹ میں وہ پہلی ہی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے تھے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں وہ آٹھ گیندوں پر دو رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

تابش خان کا مستقبل؟

فواد عالم کے بعد جس دوسرے کرکٹر کو ٹیسٹ میں موقع نہ ملنے پر سب سے زیادہ عوامی ردعمل سامنے آتا رہا تھا وہ فاسٹ بولر تابش خان تھے جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل مزاجی سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن 2002 سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے تابش خان کو 19 سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد اب ٹیسٹ کھیلنے کا موقع مل سکا ہے تاہم اب ان کی عمر36 سال سے زیادہ ہوچکی ہے جس میں فاسٹ بولر کاانٹرنیشنل کریئر زیادہ طویل نظر نہیں آیا کرتا۔

تابش خان پہلی اننگز میں ایک ہی وکٹ حاصل کر سکے جوانہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں حاصل کی تاہم دوسری اننگز میں وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔

تابش کی عمر اور اپنے ڈیبیو پر غیرمعمولی کارکردگینہ ہونے کو پیش نظر رکھ کر اسوقت جو تجزیے اور تبصرے ہورہے ہیں اس میں یہی سوال سب سے اہم ہے کہ کیا وہ دوبارہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے یا پھر پاکستان کی طرف سے جن 43 کھلاڑیوں نے صرف ایک ٹیسٹ کھیلا ہے ان میں ایک اور نام کا اضافہ ہوجائے گا؟

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More