جی سیون گروپ غریب ممالک کو ایک ارب کورونا ویکسینز عطیہ کرے گا

اردو نیوز  |  Jun 11, 2021

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو توقع ہے کہ جی سیون ممالک دنیا کے ترقی پذیر ملکوں کو کورونا ویکسین کی ایک ارب ویکسینز عطیہ کرنے پر رضامند ہو جائیں گے، اور اگلے سال کے آخر تک دنیا بھر کے لوگوں کو ویکسین لگ جائے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے فائزر ویکسین کی 50 کروڑ خوراکیں عطیہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد بورس جانسن نے کہا کہ ’برطانیہ ویکسین کی 10 کروڑ اضافی خوراکیں عطیہ کرے گا۔‘

بورس جانسن اس سے قبل جی سیون ممالک کی قیادت سے اپیل کر چکے ہیں کہ وعدہ کریں کہ 2022 کے آخر تک پوری دنیا کو ویکسین لگ جائے اور توقع ہے کہ گروپ برطانیہ میں ہونے والی تین روزہ کانفرنس کے دوران ایک ارب خوراکیں عطیہ کرے گا۔

ویکسین کے حوالے سے مہم چلانے والے کچھ گروپس اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سمندر میں قطرے سے تشبیہہ دیتے ہیں۔

آکسفیم کا اندازہ ہے کہ دنیا کی چار ارب آبادی کا انحصار کوویکس کی طرف سے دی جانے والی ویکسین پر ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق بورس جانسن نے کہا کہ ’برطانیہ کی ویکسین مہم کی کامیابی کے بعد ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اضافی ویکسین ان کے ساتھ شیئر کریں جنہیں اس کی ضرورت ہے۔‘

’ایسا کرنے سے ہم کورونا کو شکست دینے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھائیں گے۔‘

2019 میں چین سے کورونا وائرس کے پھیلنے سے لے کر اب تک دنیا میں 39 لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔

امریکہ اپنی 64 فیصد آبادی کو ویکسین لگا چکا ہے، جبکہ برطانیہ نے 77 فیصد لوگوں کو ویکسین لگا دی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ’کورونا کی وبا تب ختم ہوگی جب پوری دنیا کو ویکسین لگ جائے گی۔’

غربت کے خلاف کام کرنے والے گروپ ’ون‘ کی لِس ویلس کا کہنا ہے کہ ’جی سیون کی ایک ارب خوراکیں بہت کم ہیں (فوٹو روئٹرز)دنیا کی کُل آبادی آٹھ ارب کے قریب پہنچنے والی ہے اور زیادہ تر لوگوں کو ویکسین کی دو خوراکیں چاہیں ہوں گی۔ اس صورتحال میں ویکسین کے حوالے سے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ امیر ممالک کو مزید کچھ کرنا ہوگا یعنی یہ عطیہ کافی نہیں ہے۔

غربت کے خلاف کام کرنے والے گروپ ’ون‘ کی لِس ویلس کا کہنا ہے کہ ’جی سیون کی ایک ارب خوراکیں بہت کم ہیں اور ٹائم فریم کو بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری اس وائرس کے ساتھ دوڑ لگی ہوئی ہے اور جتنی دیر تک یہ آگے رہے گا خطرہ کم نہیں ہوگا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More