شعوری سفر میں لاشعور کے ترجمان، خواجہ رضی حیدر

سماء نیوز  |  Aug 01, 2021

متعدد شاعروں کی شاعری سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعری کی تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے۔  دراصل تخیلات کے مختلف انداز مگر یکساں موضوعات شاعروں کے عروج و زوال کا سبب معلوم ہوتے ہیں ۔ اس قدیم دنیا میں جب کوئی بات حیران کن اور تازہ دم نہیں، ایسے میں شعراء کی توجیہات و تاویلات کا اسلوب مرکز زندگی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ شاعروں کا انداز اور ان کا بیانیہ ہی اس پرانی دنیا میں دوبارہ رنگ بھردیتا ہے۔ حس جمالیات، وجودیت، نفسیات، کیفیات کے موضوعات نئے نہیں مگر مفاہیم اور الفاظ کی خوبصورتی شاعر کی پہچان بن جاتے ہیں۔

تخیلاتی سفر میں میں بہت سے شعراء اپنی غیر معمولی ترجمانی کے فرائض ادا کررہے۔ ان شاعروں میں خواجہ رضی حیدر قومی و بین الاقوامی سطح پر وہ نام ہے جو ادب کے میدان میں تعمق و تعلیل سے اپنے غیر جسمانی وجود کو امر کرچکا ہے۔ یہ نام  جسمانی پیکر کے احساس ہونے سے بالاتر ایک تمثیل کی مانند ہے جس سے ادبی حلقہ اور تخلیقی ذہن  ہمیشہ استفادہ کرتا رہے گا۔

خواجہ رضی حیدر خام دست تخلیقی اذہان کو بھی اپنی شاعری سے وہ راستہ دکھاتے ہیں جو ان کے لیے مشعل راہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ خواجہ رضی حیدر فروری 1946 میں اس دنیا میں آتے ہیں اور سن 2021 تک ان کی شخصیت ایک تمثیل کی حقیقت حاصل کر چکی ہے۔ ان کا تعارف ہی ان کے تخلیقی کمالات کا ترجمان ہے۔ خواجہ رضی حیدر ایک غیر معمولی شاعر، محقق اور  نقاد ہیں اور ان کا ہر مطبوعہ قومی و بین الاقوامی ربط پیدا کرلیتا ہے۔  ان کا کسی حوالے سے اظہار خیال سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ خواجہ رضی حیدر حب الوطنی کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کا ثبوت بانی پاکستان محمد علی جناح اور پاکستان پر ان کی کتابیں ہیں جو ملک کے منشور اور حقیقت پر پہرا دیتی معلوم ہوتی ہیں۔ خواجہ رضی حیدر قائد اعظم اکادمی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی حب الوطنی کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ اس وقت ان کی شخصیت کے پہلوؤں میں سے شاعری انتخاب ہے جس سے ان کی جہات کا اندازہ ہوسکے۔ ان کی شاعری لاشعوری حرکات و سکنات کو شعوری مرتبہ دلانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کی شخصیت کا کمال ہے کہ انہوں نے محقق کی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے  شاعری پر مربوط ایک سے زائد کتابیں لکھیں۔ ان کا شاعرانہ اسلوب انتہائی غیر معمولی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ قلم سے گفتنی پیدا کرنے میں ماہر ہیں۔

خواجہ رضی حیدر کی صلاحیتوں پر قلم اٹھانا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کی شخصیت کا کوئی ایک پہلو نہیں بلکہ ان کا شاعرانہ حوالہ جدا، تحقیقی حوالہ جدا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر ان کا علمی استغراق بالکل جدا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ رضی حیدر نے اپنی پوری زندگی علم کے لیے خاص کردی جس وجہ سے ان کا ہر قلمی کام  معاشرے  کی نشوونما کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شاعری خسارے اور احساسات کی نمائندہ ہے۔ یہ وہ خسارہ اور احساس ہے جو شاعر اپنی معاشرتی خدمات کی بنا پر اپنی ذاتی شخصیت کو پس پشت ڈالنے پر محسوس کرتا ہے۔ ان کی علمی زندگی، ذاتی زندگی پر اس طرح ہاوی ہوئی کہ ان کی ذاتی خواہشات اور مقتضیات ان کے لیے اہمیت کے حامل ہی نہیں رہے۔  اس لاپرواہی کا ان کو  جہاں احساس ہوتا ہے وہیں یہ لاپرواہی ان کو تقویت دیتی ہے کیوں کہ ان کے علمی حوالے ان کو تاریخ میں ہمیشہ استقرار کی حالت میں رکھیں گے۔ شاعری میں ان کی لاشعوری صدائیں خوب صورتی سے الفاظ کا جامہ پہنے نظر آتیں ہیں۔ یہ لاشعوری صدائیں جہاں کسی قرب کی کمی اور احساسات کی ترجمان ہیں وہیں خواجہ رضی حیدر کی علمی زندگی کو افتخار بھی سمجھتی ہیں۔ ان کے مسودے ابحار پر ان کی گرفت بتاتے ہیں اور ان کے جذباتی اشتغال سے ملاقات کی دعوت پیش کرتے ہیں۔ بیشتر مقامات پر ان کے مصرعے نقش کف پا اور قربت کی علامتیں استعمال کرتے ہوئے خواجہ رضی حیدر کے باطن میں موجود حس جمالیات اور نازک احساسات کا بیانیہ محسوس ہوتے ہیں۔ شاعرانہ صفت کے ذریعے وہ اپنی وجودیت کی جنگ لڑنے اور اضطراری کیفیات کو رقم کرنے میں نہایت کامیاب ہیں۔

شاعری کے میدان میں ان کی خدمات ان کو مسند افتاء قرار دے چکی ہیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر علم کی جنگ لڑرہی ہیں۔ ان کی واردات دراصل بے معنی مادی دنیا اور علم میں افتراق پیدا کرتی معلوم ہوتی ہے جو اس صدی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کی شاعری ان کے لاشعور سے ملاقات کا موقع فراہم کرتی ہے جو عام حالات میں ممکن نہیں۔ خواجہ رضی حیدر کا خاصہ ہی یہ ہے کہ انہوں نے گھریلو، خاندانی ،علمی ، شاعرانہ ذمے داریوں کو ایک ہی وقت میں غیر معمولی انداز میں پورا کیا۔ ان کی شاعری خوب انداز میں عام انسان کے دل میں موجود حلقہ در کو کھٹکٹاتی ہے جس سے قاری اور ان کے درمیان ظرافت کا رشتہ استوار ہوجاتا ہے۔ قاری اور ان کی شاعری کے مابین اس تعلق کی وجہ سے ایک عام قاری شعوری نحافت پر قابو پالیتا ہے۔ ان کی شاعری وجودیت کو مرکز بناتے ہوئے قاری کو اس کی باطنی اہمیت کا خیال دلاتی ہے۔ ان کے مداح عوام اور خواص دونوں میں موجود ہونے کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ اس تعداد سے ایسا لگتا ہے جیسے ایک ندوہ ہے جس کی ترجمانی اور اصلاحات کی ذمے داری خواجہ رضی حیدر نے اپنے کاندھوں پر لی ہوئی ہو۔

ان کی اشعار پر مبنی کتابیں جن کے نام بے حد مقبول ہیں وہ “بے دیار شام ” اور “گماں گشت” ہیں ۔ ان کی کتاب “لفظ بوسیدہ نہیں ہوتے” اپنے اندر ایک منشور اور آئین کی پاسدار معلوم ہوتی ہے۔  کتابوں کے اشتمال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ راویتی دنیا میں متوازن خیالات سے جدید انداز میں فکر کا درس دیتے ہیں۔ ہر شعر، ہر غزل احساس کی پکار ہے جو ایک شخص ذمے داریوں اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے لاشعور میں محسوس کرتا ہے۔ ان کے شعر میں غبار بدن کا مستعار دراصل تجرباتی زندگی ہے جس سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہونگیں۔ ان کی بہت سی کتابیں تاریخی موضوعات کو اپنا مضمون بناتی ہیں۔

خواجہ رضی حیدر کی شاعری کا حسن یہ ہے کہ کئی غزلوں میں وہ وجودیت کے حوالے سے خود کو ممتحن پاتے ہیں اور اپنی جچائی میں مصروف نظر آتے۔ وہ ایک ایسے سفر میں معلوم ہوتے ہیں جس کا راستہ، جس کی منزل وہ خود ہیں۔ ان کے اشعار میں خود اعتمادی اور اپنے اوپر بھروسہ ان کی زندگی میں حاصل کامرانیوں کا سبب ہے جس کو انہوں نے سخت ریاضت   کے بعد خود بھی محسوس کیا۔

خواجہ رضی حیدر کی ترقی کا سفر جاری وساری ہے کیوں کہ وہ اپنے اندر علم کی لہر کو ہمیشہ آب و تاب سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ لہریں بھی ان کے اندر اس سمندر سے اٹھتی ہیں جو ان کی شخصیت کے اندر ہی موجود ہے۔ ان کی شاعری الفاظ کی طراری کے بجائے طراز کی قائل نظر آتی ہے جو فغاں میں فقیدالمثال ہے۔ خواجہ رضی حیدر ہر سوال کا جواب کئی طرح سے دے کر مفاہیم کے رمز سے آشنا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بنیادی بات ہی باعث توجہ ہے ورنہ مفہوم کی کشمکش میں اصل موقوف ہوتا نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری کا خاصہ یہ ہے کہ وہ جیسے خود پر مقدمہ کرنے کے بعد اپنا مقدمہ خود لڑرہے ہوں اور اخیر میں بطور باطنی قانون دان کی حیثیت سے اپنے حق میں بہتر فیصلہ مفصل بیان  دیتے ہوں۔

ایک شاعر اپنے اندر موجود رمز کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی کیفیات شاعری کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ خواجہ رضی حیدر اپنی اور لوگوں میں موجود بنیادی کیفیات کو اپنے الفاظ سے زندگی عطا کرتے ہیں۔ ان کی شاعری سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر تخلیقی خیالات کی آمدورفت کا سلسلہ غیر معمولی انداز میں موجود رہتا ہے۔ اس آمدورفت سے ان کے اندر کا شاعر بیدار ہوتا ہے اور وہ احساسات کو بنیادی محرک مان کر مادے کے نقص آشکار کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان کے مطابق مادہ ایک حقیقت ہے مگر جذبات و احساسات کے اقدار پر توجہ معاشرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ ہر مادہ جذبات و احساسات کا پابند ہے جب کہ ان کی شاعری میں افکار کسی مکاں اور مادے کے پابند نہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ خواجہ رضی حیدر ایک جثہ رکھنے پر کئی شخصیتوں کے مالک ہیں۔ ان کا وجود محققانہ، شاعرانہ، مورخ کی حیثیت سے محل اور ضرورت کے اعتبار سے پیش پا افتادہ ہے۔ ایک مضمون میں ان کی شخصیت کے ہر پہلو پر بات کرنا مشکل ہے، یہاں تک کہ صرف ان کی شاعری کے دستور العمل پر ہی نہایت باریک بینی درکار ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ خواجہ رضی حیدر کی شخصیت میں شاعری کا امتزاج ان کے وجود کی تماثیل میں سے  ہے۔ الغرض ایک شاعر کی حیثیت سے وہ ایک قائدے کی مانند ہیں جس کو مستقل دہرانے کے باعث قاری اپنے وجود کی حقیقت اور لاشعوری حقیقت سے وابستگی رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More