ٹماٹر کو کاٹ کر زمین میں دبا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ وجہ ایسی کہ آپ بھی حیران رہ جائینگے

بول نیوز  |  Sep 20, 2021

آج ہم اپنی اس اسٹوری میں آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک ٹماٹر کے 4 سلائس کاٹ کر اگر ہم اس کو ایک گملے میں رکھ کر دبا دیں تو کیا ہوتا ہے؟

ٹپ: 

ایک ٹماٹر کے چار ٹکڑے کرلیں اور ایک گملے یا پھر کسی پلاسٹک کے برتن میں ڈھیر ساری کھاد اور مٹی ڈال کر ان 4 ٹکڑوں کو دبا دیں۔

اس طرح آپ دیکھیں گے 15 دن بعد روزانہ پانی دینے سے ایک چھوٹا سا پودا نکل آئے گا اور یوں 3 ماہ میں ٹماٹر کا پودا گھر میں ہی اُگ جائے گا۔

ٹماٹر کو اگانے کے لئے اس کے نا تو بیجوں کی ضرورت ہے اور نہ کسی خاص قسم کی مٹی کی تو اب سے ٹماٹر مہنگے ہو بھی جائیں گے تو آپ کو فائدہ ہوگا کیونکہ آج ہم نے آپ کی سہولت کے لئے سب سے آسان حل بتا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ٹماٹر کھانے کو ذائقہ بخشنے میں ایک اہم جُز سمجھا جاتا ہے اور اس کے بغیر مزیدار کھانا بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا۔

کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹماٹر صحت کے لیے بھی بے حد مفید سمجھا جاتا ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

آج ہم آپ کو ٹماٹر کے ایسے فوائد بتاتے ہیں جو اس سے پہلے شاید ہی آپ جانتے ہوں۔

انٹرنیشنل جرنل آف نیوٹریشن، فارماکولوجی، نیورولوجیکل ڈیزیززمیں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ٹماٹر میں لائکوپین موجود ہوتا ہے، یہ ایک کیروٹینائڈ جو ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے، اور یہ کینسر کے خلاف طاقتور اثرات رکھتا ہے۔

سورج کی مہلک کرنوں  سے ہونے والے جلد کے کینسر سے بچاؤ کے لئے ٹماٹر کا استعمال بےحد مفید ہے اس لئے اگر روزانہ کی بنیاد پر ٹماٹر کھایا جائے تو اس سے یہ خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

 ٹماٹر کا ایک اور فائدہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ یہ شوگر کی سطح کو بھی متوازن رکھتا ہے، انسولین کے خلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے اور شوگر کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی افادیت میں اضافہ کرتا ہے۔

 جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں آرام کے لیے آرتھرائٹس کا شکار افراد کے لیے ٹماٹر کا استعمال معاون قرار دیا جاتا ہے۔

 طبی ماہرین ہاضمے کا شکار مریضوں کو ٹماٹر کا استعمال کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ٹماٹر کھانے سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹماٹر میں موجود ہاضمے کے لیے وٹامن اور نمکیات معدے کی رطوبتیں خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں بھوک زیادہ لگتی ہے اور کھانا بھی آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔

Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More