انڈیا: کوبرا سے ڈسوا کر بیوی کو قتل کرنے والے شخص کو عمر قید

اردو نیوز  |  Oct 14, 2021

اپنی بیوی کو قتل کرنے کے لیے کوبرا سانپ کا استعمال کرنے والے انڈین شہری کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ بدھ  کو دیا ہے اور اسے استغاثہ نے ’نایاب ترین‘ کیس قرار دیا ہے۔

استغاثہ نے بتایا کہ سورج کمار نے اپنی بیوی اتھرا پر پہلے ایک انتہائی زہریلا وائپر سانپ ڈالا جس کے باعث وہ تقریباً دو ماہ تک ہسپتال میں رہی۔

جب وہ اپنے والدین کے گھر میں صحت یاب ہوئی تو اس کے شوہر نے سانپوں والے سے کوبرا حاصل کیا اور اسے اپنی سوئی ہوئی بیوی پر پھینک دیا۔

کوبرا کے زہریلے ڈنک کی وجہ سے 25 سالہ خاتون اتھرا ہلاک ہو گئی۔

سورج نے اپنا قصور تسلیم نہیں کیا لیکن پولیس نے بتایا کہ اس کے فون ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سانپ رکھنے والوں کے ساتھ رابطے میں تھا اور اس نے گزشتہ سال مارچ میں جنوبی ریاست کیرالہ قتل سے پہلے انٹرنیٹ پر سانپ کی ویڈیوز دیکھیں تھیں۔

پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ سورج نے کوبرا کے کاٹنے کے بعد اتھرا کے ساتھ کمرے میں قیام کیا اور اگلے دن روزمرہ کے معمولات پر چلا گیا۔ بعدازاں اتھرا کی والدہ نے اس واقعے سے خبردار کیا۔

سزائے موت کا مطالبہ کرنے والے پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’قتل کا طریقہ اور ملزم کی جانب سے اپنی اہلیہ کے قتل کی دوہری منصوبہ بندی کہ وجہ سے یہ (کیس) نایاب کے زمرے میں آتا ہے۔‘

سانپ سنبھالنے والے واوا سریش نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ سورج نے ’سانپ کو کاٹنے پر اکسایا ہو۔‘

اتھرا کی موت کے بعد سورج کی جانب سے اس کی جائیداد پر قبضے کی کوشش کے بعد مقتولہ خاتون کے والدین شک میں مبتلا ہو گئے۔(فوٹو: سوشل میڈیا)ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والی اتھرا کے بینک ملازم شوہر کی حالت بہتر نہیں تھی۔

اتھرا کی موت کے بعد سورج کی جانب سے اس کی جائیداد پر قبضے کی کوشش کے بعد مقتولہ خاتون کے والدین شک میں مبتلا ہو گئے۔

سورج اور اتھرا کی شادی میں بھاری جہیز دیا گیا تھا جس میں ایک نئی گاڑی اور پانچ لاکھ روپے شامل تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سورج کے خاندان پر اس وقت سازش کے الزامات عائد کیے گئے، جب قتل کے کچھ دن بعد سورج کے گھر کے قریب اتھرا کا کچھ سونا دفن پایا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More