آریان خان منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں:تفتیش

سماء نیوز  |  Oct 14, 2021

بھارتی میڈیا نے خبر دی ہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان منشیات خریدنے اورآگے دینے میں ملوث ہیں۔

آریان کو بھارتی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے ہفتہ2 اکتوبرکی شب خفیہ اطلاع پرممبئی کی بندرگاہ پرکروز شپ میں ہونے والی پارٹی پرچھاپے کے دوران گرفتارکیا تھا۔

ممبئی کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 سالہ آریان خان کی واٹس ایپ چیٹ ظاہرکرتی ہے کہ وہ منشیات کی خریداری اورتقسیم میں شامل ہیں

این سی بی کے اس دعوے کے بعد گزشتہ روز آریان کی درخواست ضمانت پرسماعت ملتوی کردی گئی جو آج کی جائے گی۔

نارکوٹکس کنٹرول بیوروکے مطابق، ‘ شاہ رخ خان کا بیٹا کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھا جو منشیات کی غیرقانونی خریداری کے لیے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ نظرآتے ہیں’ ۔

آریان جمعہ 8 اکتوبرسے آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں، عدالت نے ان کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا تھا۔

آریان کی نمائندگی اب امیت ڈیسائی کررہے ہیں جو ہٹ ایڈ رن کیس میں سلمان خان کے وکیل تھے اوراداکارنے اس انتہائی مشکل کیس میں بریت حاصل کی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ شاہ رخ نے سلمان کے مشورے پر ہی وکیل تبدیل کیا۔

امیت ڈیسائی نے این سی بی کےدعووں کومضحکہ خیزقراردیتے ہوئے دلیل دی کہ چھاپے کے وقت آریان جہازپرموجود نہیں تھا۔ لیکن این سی بی کے مطابق آریان اپنے دوست ارباز مرچنٹ سے منشیات حاصل کرتا تھا۔

ہائی پروفائل گرفتاری نے بالی وڈ کی کئی مشہور شخصیات کو شاہ رخ خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پربھی اکسایا۔اداکارشتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو شاہ رخ کے ساتھ پرانے بدلے چکانے کا موقع مل گیا ہے۔

ہریتک نےآریان کی گرفتاری کے معاملے پر انسٹاگرام پر ایک کھلا خط شیئرکرتے ہوئے یقین دلایا کہ چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی اور اسے “ہر وہ چیزجس کا وہ تجربہ کرتا ہے” اپنانا چاہئیں۔

شاہ رخ کے بیٹے کی گرفتاری: کنگنا تصویرکادوسرارخ سامنے لے آئیں

ہریتک کے علاوہ اداکار سنیل شیٹی بھی وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نےمیڈیا سے درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ، ‘اس بچے کو سانس لینے دیں اور اصل رپورٹ سامنے آنے دیں۔

بیٹے کی گرفتاری کے بعد سے شاہ رخ یا ان کی اہلیہ گوری خان کی طرف سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More