سوڈان:بغاوت کی اطلاعات،ایئرپورٹ بند، انٹرنیٹ سروس معطل

سماء نیوز  |  Oct 25, 2021

بشکریہ سی بی سی

سوڈان میں نامعلوم مسلح افراد نے سوڈانی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، جب کہ سوڈانی وزیراعظم کو رہائش گاہ میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملک بھر میں انٹر نیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے، جب کہ ایئرپورٹ کو بند کردیا گیا ہے۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں پیر کو علی الصبح سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اہم تنصیبات پر تعیناتی دیکھی گئی ہے۔ اس دوران فون سروس منقطع کر دی گئی۔ الجزیرہ کے مطابق وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے متعدد وزراء کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں کابینہ کے امور کے وزیر خالد عمر يوسف، وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ فیصل محمد صالح اور وزیر صنعت ابراہيم الشيخ کے علاوہ 3 سیاسی جماعتوں کے ذمے داران بھی شامل ہیں۔ یہ جماعتیں سوڈانی کانگریس پارٹی، البعث العربی پارٹی اور یونینسٹ ایسوسی ایشن ہیں۔ گرفتار اہم شخصیات کی رہائش گاہ کے سامنے عسکری نفری دیکھی جا رہی ہے۔

سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی کال میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور سول اتھارٹی کی حمایت میں عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں اس طرح کی خبروں کی تصدیق کی ہے کہ اقتدار پر قبضے کے لیے عسکری نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی فوجی انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے سوڈان کے تمام شہروں میں عوام باہر نکل آئیں۔

بعد ازاں دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر مشتعل درجنوں احتجاجیوں کو دیکھا گیا۔ جو وزرا کی گرفتاری کی مذمت کرتے رہے۔ مشتعل افراد نے ٹائر بھی جلائے۔

حالیہ جاری نقل و حرکت کو شہری حکومت کا تختہ الٹنے جیسا قرار دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان آج کسی وقت بیان جاری کریں گے جس میں ملک کے موجودہ حالات کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ تازہ ترین گرفتاریاں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرہان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ملاقات میں براعظم افریقہ کے لیے امریکی ایلچی جیفری ویلٹمین کی تجاویز زیر بحث آئیں۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے حکومت میں شامل شہری اور عسکری حکام کے بیچ تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More