سڑکیں’کترینہ کےگالوں’جیسی بناؤ،بھارتی وزیرکی فرمائش

سماء نیوز  |  Nov 25, 2021

سیاستدانوں کے وعدوں کی سنجیدگی کا اندازہ ان کے اندازبیاں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے اور عوامی عدالت میں جواب دہی کا ڈر رکھنے والے سیاسی رہنماوں کیلئے تو بھارتی وزیرکی وائرل ویڈیو مشعل راہ ثابت ہوگی جو ‘ آئے،عوام کو ہنسایا اورچل دیے’ کی عملی تفیسر بن گئے۔

بھارتی ریاست راجستھان کے وزیرراجیندرا سنگھ گودھا نے اچھی سڑکوں کیلئے بالی ووڈ کی باربی ڈول کہلائی جانے والی اداکارہ کترینہ کیف کی مثال دے ڈالی۔

وزیرموصوف کی ایک ویڈیوسوشل میڈیا پرخوب وائرل ہے جس میں وہ غالباً اپنے حلقے میں کچہری سجائے بیٹھے ہیں۔

بھارتی نیوزایجنسی اے این آئی کی جانب سے ٹوئٹرپرشیئرکی جانے والی اس ویڈیو میں عوام کی جانب سے علاقے کی سڑکوں کی حالت زار پرتوجہ دینے کے مطالبے پر راجیندرا سنگھ گودھا وہاں موجود متعلقہ عملے سے کہہ رہے ہیں کہ سڑکیں کترینہ کے رُخساروں جیسی بننی چاہیئیں۔

اس انوکھی تشبیہہ پرسڑکوں کی درستگی کی فرمائش کرنے والے محظوظ ہوتے ہوئے ہنس پڑے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ پردلچسپ تبصرے کیے۔

Roads of Madhya Pradesh were like Om puri’s cheeks during congress rule

— कार्तिक (@kchandwaskar) November 24, 2021Chacha Nehru ke sapno ko sakar karta hua ek congressi 😂

— Sandeep Kakadiya (@KakadiyaSandeep) November 24, 2021Chacha Nehru ke sapno ko sakar karta hua ek congressi 😂

— Sandeep Kakadiya (@KakadiyaSandeep) November 24, 2021ایک صارف کویاد آیا کہ کانگریس کے دور میں مدھیہ پردیش کی سڑکیں اوم پوری کے گالوں جیسی تھیں۔

Roads of Madhya Pradesh were like Om puri’s cheeks during congress rule

— कार्तिक (@kchandwaskar) November 24, 2021ایک صارف نے سابق وزیرلالو پرساد یادیو کی یاددلاتے ہوئے لکھا کہ وقت وقت کی بات ہے، لالو جی کی جانب سے ہیما مالنی کے گالوں کے بعد اب ہم کترینہ کے گالوں تک آچکے ہیں ۔

یادرہے کہ سال 2005 میں لالو پرساد یادیوکا اپنے صوبے کے حوالے سے کہنا تھا کہ کہ بہار کی سڑکیں ہیما مالنی کے گالوں کی طرح بنائی جائیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More