پلاسٹک کی بنی ہوئی کشتیاں اور ۔۔ وائٹ واٹر کیاکنگ ہے اور امریکی صرف تیرنے کے لئے پاکستان آنا کیوں پسند کرتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Nov 28, 2021

’پاکستان میں وائٹ واٹر کیاکنگ کا تجربہ شاندار رہا ہے۔ جس طرح یہاں کے شمالی علاقہ جات کے بلند و بالا پہاڑ پوری دنیا کے مہم جوؤں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں، اسی طرح ادھر کے دریا اور پانی کے ذخائر میں بڑی کشش ہے اور ہم نے مہم جوئی سے بہترین لطف اٹھایا ہے۔‘

یہ کہنا تھا امریکہ سے آئے ہوئے مہم جو بنجمن لک کا جنھوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ سکردو سے گلگت تک دریائے سندھ کے پانیوں میں وائٹ واٹر کیاکنگ کی۔

بنجمن لک اور ان کے ساتھی جب پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر وائٹ واٹر کیاکنگ کر رہے تھے تو دیکھنے والے انگلیاں دانت میں دبا لیتے تھے۔

شمالی علاقہ جات میں بہنے والا دریائے سندھ ہو، دریائے گلگت یا دریائے کہنار، ان کی لہریں دور سے دیکھنے پر بہت خوبصورت لگتی ہیں۔ مگر ان کے قریب جانا انتہائی پُرخطر ہے اور غلطی سے بھی اس دریا میں گرنے والے ماہر ترین تیراک کے بچ نکلنے کے مواقع بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

شمالی علاقہ جات کے ان دریاؤں کی لہریں کئی کئی فٹ بلند ہوتی ہیں۔ ان میں موجود نظر آنے اور نہ آنے والی بڑی بڑی چٹانیں اور تیز رفتار پانی لمحوں میں موت کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ ان دریاؤں کے بڑے حصے میں کشتی رانی جیسے کھیل کھیلنا ممکن نہیں سمجھا جاتا ہے۔

مگر بنجمن لک اور ان کے ساتھیوں، کوڈی بیچ، لوئس نورس اور برنارڈ اینگلمین نے ان سب خطروں کا مقابلہ کیا۔

وہ اور ان کے ساتھی دو ہفتے قبل سکردو سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے گلگت کے مقام دریائے گلگت تک اپنے منصوبے اور طے شدہ وقت کے مطابق کامیابی سے پہنچے۔ اس دوران انھوں نے 140 کلو میٹر کا سفر چھ روز میں مکمل کیا۔

وائٹ واٹر کیاکنگ کیا ہے؟

وائٹ واٹر کیاکنگ کچھ کمیونیٹیز اور خطے کے لوگوں کے لیے اس وقت نقل و حرکت کا ذریعہ ہوا کرتا تھا جب دیگر ذرائع یعنی روڈ وغیرہ بند ہو جاتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی کمیونیٹیز کم ہوتی چلی گئیں مگر جدید دور میں اس نے مہم جوئی اور کھیل کی شکل اختیار کرلی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک جیسے امریکہ، کینڈا، برطانیہ اور دیگر خطوں میں یہ کھیل اب مقبول عام ہے اور اس وقت اس کھیل کی ایک جدید شکل اولمپک میں بھی موجود ہے۔

وائٹ واٹر کیاکنگ کے لیے لازمی سامان میں پلاسٹک کی بنی ہوئی کشتیاں اور چپو ہیں جبکہ اس مہم جوئی کو وہی لوگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو مشکل حالات میں چپو دونوں بازوں کے ساتھ دونوں طرف تیزی سے چلانے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ماہر تیراک ہوں۔

حفاظتی ساز وسامان میں پہلے کے مقابلے میں اب اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں ہیلمٹ، لائف جیکٹ، رسی وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں غیر ملکیوں مہم جوؤں کی یہ چھٹی ٹیم ہے جو وائٹ واٹر کیاکنگ کے لیے آئی ہے۔

پاکستان میں وائٹ واٹر کیاکنگ کے انتظامات کرنے والی ٹور کمپنی گولڈن پیک ٹور کے مینجنگ ڈائریکٹر علی انور خان کے مطابق پاکستان میں ابھی وائٹ واٹر کیاکنگ کے بارے میں زیادہ آگاہی موجود نہیں ہے۔

'ہم نے چند سال پہلے گلگت بلتستان محکمہ ٹورازم کے ساتھ مل کر مہم شروع کی جس کے نتیجے میں وائٹ واٹر کیاکنگ کے مہم جوؤں کی ٹیم کو پاکستان لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

وائٹ واٹر کیاکنگ کا پاکستان میں مستقبل

علی انور خان کے مطابق ابھی تک پاکستان میں اس مہم جوئی یا کھیل کے حوالے سے کوئی زیادہ ماہر افراد موجود نہیں ہیں جس وجہ سے غیر ملکی اپنی مدد آپ ہی کے تحت تمام انتظامات کر رہے ہوتے جبکہ ان کی کمپنی صرف لاجسٹک مدد سپورٹ فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں اس کھیل کو باقاعدہ اختیار کر لیا جائے اور مقامی طور پر اس کے ماہرین تیار کر لیں تو اس کے نتیجے میں غیر ملکی مہم جوؤں کی بہت بڑی تعداد پاکستان کا رخ کر سکتی ہے۔

علی انور خان کے مطابق اس وقت تک تو بظاہر ایسے لگتا ہے کہ موسم گرما میں جب دریائے سندھ، دریائے گلگت یا شمالی علاقہ جات کے دریاوں میں پانی بہت تیز اور زیادہ ہوتا ہے اس وقت اس کھیل کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔

'مگر موسم سرما کے اندر جب پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو شمالی علاقہ جات کے یہ دریا اس مہم جوئی کے لیے انتہائی بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

علی انور خان کے مطابق اس کھیل اور مہم کو فروغ دے کر موسم سرما کی مہم جوئی میں ایک اور اضافہ بھی کیا جا سکتا جس سے غیر ملکی زرمبادلہ اور مقامی طور پر روزگار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

بنجمن لک کا کہنا تھا کہ وائٹ واٹر کیاکنگ کے شوقین لوگوں کی نظروں سے ابھی پاکستان کے یہ خوبصورت دریا اوجھل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈونچر سیاحت: ہوٹل نہیں خیموں میں رہنے والے منچلے

وادئ کُمراٹ: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

پاکستان میں ’پہاڑی خداؤں کے تخت‘ تک پہنچنا آسان نہیں

بنجمن لک کا کہنا تھا کہ انھوں اور ان کی ٹیم نے ابھی اس وقت بہت تھوڑے پانی پر اپنی مہم جوئی کی ہے۔ ’ہم اس خوبصورت پانی اور ان کی بلند و بالا لہروں، پہاڑوں اور وادیوں کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ شمالی علاقہ جات کے اندر ابھی ایسا بہت سا پانی ہے جس پر ابھی ہم لوگوں نے مہم جوئی کرنی ہے جس کے لیے ہم لوگ واپس جا کر منصوبہ بنائیں گے۔‘

بنجمن لک کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کے مختلف ممالک میں وائٹ واٹر کیاکنگ کی ہے۔

’ہر ملک کا اپنا ماحول اور صورتحال ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اس مہم جوئی کے لیے پاکستان میں بہت مواقع ہیں۔ ایک سب سے بڑا موقع تو یہ ہے کہ دنیا کے باقی ممالک میں موسم گرما میں یہ کھیل ہوتا ہے مگر پاکستان کی صورتحال میں موسم سرما اس کے لیے موزوں ہے۔‘

بینجمن لک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی اس کا آغاز ہے۔

'کئی پانی، دریا اور روٹ ایسے ہیں جن پر ابھی کسی نے سفر نہیں کیا۔ بہت کچھ ہے جو ابھی تک دنیا اور مہم جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ مہم جو یقینی طورپر ان پر سفر کرنا چاہیں گے۔ جس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ وہ امریکہ واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتائیں گے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن سے مالا مال پانی ان کے منتظر ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More